وہ کہیں ظاہر ،کہیں انداز روپوشی میں ہے
نغمۂ بلبل میں ہے غنچوں کی خاموشی میں ہے
زندگی کی کشمکش کا راز و مفہومِ سکوں ؟
دن کے ہنگاموں میں ہے راتوں کی خاموشی میں ہے
یا نگاہ یار میں ہے مستئ صہبائے ناب
یا نگاہ ِیار کی تاثیر مے نوشی میں ہے
عرض مطلب پر تبسم ان کا بے معنی نہیں
نیم وعدہ کا مگر مفہوم خاموشی میں ہے
کھیل قسمت کے زمانے کی دورنگی دیکھئے
کوئی صرفِ غم ہے کوئی شغل مے نوشی میں ہے