تیرے گن گانے کی حسرت کھینچ لائی ہے یہاں
میں بھی اک گوشہ نشین ہوں تیرے بزم ناز ہیں
آرزو اس کے سوا کیا ہے کہ یہ تار حیات
ٹوٹ کر بے مدعا مل جائیں تیرے ساز میں
نیم شب کے معبد تاریک کے گھڑیال جب
ہر طرف تیری پرستش کی صلائے عام دے
اے مرے معبود ! تو اُس دم مجھے اپنے حضور
نغمہ پردازی کا لطیف خاص سے پیغام دے