وہ محفل میں نقاب الٹیں تو نقشہ ہی بل جائے
تڑپ کر شمع سوزاں صورتِ پروانہ جل جائے
تجلی حسن روزافزوں کی ہی عہد جوانی تک
فروغ شمع روشن پھر کہاں جب رات ڈھل جائے
گرے کیوں چار تنکوں پر فلک سے ٹوٹ کر بجلی
شرارِ آتش گل سے نشیمن اپنا جل جائے
ریاض دہر میں ہوگا نہ مجھ ساتفتہ جاں کوئی
وہ غنچہ ہوں نکلتے ہی جو شاخ گل پہ جل جائے
مری طوفان زدہ کشتی ہے موجوں کے تلاطم میں
مدد اے گردش قسمت ہوا کا رخ بدل جائے
خوشی عہد وفائے یار کی برقؔ حزیں کیسی ؟
زمانہ کیا خبر ہے پھر کوئی کروٹ بدل جائے