Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


برق دہلوی

بانکپن کی جو حسینوں میں ادا ہوتی ہے

 

 بانکپن کی جو حسینوں میں ادا ہوتی ہے

عاشقوں کے لئے پیغام قضا ہوتی ہے

 

نیچی نظروں کی لگاوٹ بھی بلا ہوتی ہے

اسی شوخی پہ تو قربان حیا ہوتی ہے

 

دلکشی جس  میں ہو انداز اسے کہتے ہیں

چھین لیتی ہے جو دل کو وہ ادا ہوتی ہے

 

بھری محفل میں تری آنکھ نے مارا مجھ کو

اس کو آتی ہے اجل جس کی قضا ہوتی ہے

 

ہمہ تن گوش ہوں وصل کا سائل ہوکر

ہاں نہیں منھ سے تیرے دیکھئے کیا ہوتی ہے

 

ان حسینوں کی ادائیں بھی نرالی دیکھیں

جس کی نظروں میں رہیں اس سے حیا ہوتی ہے

 

مر کے منزل پہ پہنچتے ہیں مسافر اس کے

جان پر کھیل کے طے راہِ فنا ہوتی ہے

 

عہد پیری میں کہاں رہتا ہے وہ جوش شباب ؟

نوجوانی بھی کوئی دن کی ہوا ہوتی ہے

 

برقؔ پر کالۂ آتش ہیں حسینانِ جہاں

نام ان میں مروت نہ حیا ہوتی ہے