بانکپن کی جو حسینوں میں ادا ہوتی ہے
عاشقوں کے لئے پیغام قضا ہوتی ہے
نیچی نظروں کی لگاوٹ بھی بلا ہوتی ہے
اسی شوخی پہ تو قربان حیا ہوتی ہے
دلکشی جس میں ہو انداز اسے کہتے ہیں
چھین لیتی ہے جو دل کو وہ ادا ہوتی ہے
بھری محفل میں تری آنکھ نے مارا مجھ کو
اس کو آتی ہے اجل جس کی قضا ہوتی ہے
ہمہ تن گوش ہوں وصل کا سائل ہوکر
ہاں نہیں منھ سے تیرے دیکھئے کیا ہوتی ہے
ان حسینوں کی ادائیں بھی نرالی دیکھیں
جس کی نظروں میں رہیں اس سے حیا ہوتی ہے
مر کے منزل پہ پہنچتے ہیں مسافر اس کے
جان پر کھیل کے طے راہِ فنا ہوتی ہے
عہد پیری میں کہاں رہتا ہے وہ جوش شباب ؟
نوجوانی بھی کوئی دن کی ہوا ہوتی ہے
برقؔ پر کالۂ آتش ہیں حسینانِ جہاں
نام ان میں مروت نہ حیا ہوتی ہے