سید ریاض الدین اصلی نام تھا خیرآباد وطن کی نسبت اور ریاض تخلص کی وجہ سے ریاض خیرآبادی کے نام سے مشہور ہوئے،ان کی پیدائش 1853ء میں خیرآباد ضلع سیتاپور میں ہوئی،نسبی لحاظ سے سید حسینی تھےان کے آباؤاجداد کرمان ایران سے علاؤالدین غوری کے زمانے میں ہندوستان آئے،ان کا خاندان علم و ادب میں ممتاز اور مذہبی تھا اور ایک زمانے تک عہدہ قضاۃ انہیں کے خاندان پاس رہا کرتا تھا،ان کے والد سید طفیل احمد عالم اور رسوخ واثرات والے شخص تھے وہ محکمۂ پولیس میں انسپکٹر کے عہدہ پر فائز تھے،انہوں نے فارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی بعد ازاں والد کا تبادلہ گورکھپور میں ہوا تو وہاں عربی کی تعلیم حاصل کی، پندرہ سال کی عمر میں خیرآباد واپس آئے اور یہاں کے مدرسہ عربیہ میں داخلہ لیا لیکن تعلیم کو بیچ میں ہی منقطع کر لیا،خیرآباد میں انہوں نے شعر وشاعری کی شروعات کی، پہلے مظفر علی خان اسیر سے اصلاح سخن لی لیکن جلد ہی ان کے بجائے امیر مینائی کی شاگردی اختیار کی اور تا عمر ان سے ہی اصلاح لیتے رہے ، لطیف احمد اختر مینائی ریاض رضوان کے پیش لفظ میں رقم طراز ہیں"حضرت والد ماجد کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ"ریاض اصلاح کے قدردان ہیں لہذا ان کا کلام بہت توجہ سے دیکھنے کو جی چاہتا ہے" انہوں نے اپنا کلام بغیر اصلاح کے کبھی شائع نہیں کرایا اور جب تک امیر زندہ رہے یہ ان سے اصلاح لیتے رہے،انہوں نے اپنی ادبی و عملی زندگی کا آغاز خیرآباد سے کیا، انہوں "ریاض الا خبار"، "تار برقی" اور"گل کدہ ریاض" کی شروعات یہیں سے کی،1870ء میں ریاض اپنے والد کے ہمراہ گورکھپور چلے گئے ، والد نے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ان کو پولیس میں انسپکٹر کے عہدہ پر تقرری کرادی لیکن جلد ہی انہوں اس نوکری کو چھوڑ دیا،اس کے بعد انہوں نے گورکھپور میں"ریاض الاخبار"،صلح کل"اور طنزومزاح کا ہفت واری" فتنہ، عطر فتنہ" بھی نکالا، یہاں انہوں نے رسائل "گل کدہ ریاض" اور"گلچیں"بھی جاری کیا،انہوں نے کئی ناولوں کے اردو ترجمے بھی کئے، ریاض نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گورکھپور میں گزارا، صحت کی خرابی ، مالی پریشانیوں اور مہاراجہ محمودآباد کے اصرار پر لکھنؤ آگئے لیکن دوران سفر ان کے بکس سے ان کا دیوان چوری ہوگیا ان کے چالیس سال کی محنت ضائع ہوگئی،لکھنؤ کے ماحول نے ان کے فنی وادبی صلاحیتوں میں اور نکھار پیدا ہوگیا، یہاں انہوں نے "ریاض الاخبار" جاری کیا لیکن تین سال کے اندر بند کردیا ،لکھنؤ میں انہوں نے ایک انجمن "اصلا ح سخن" کے نام سے قائم کی،لکھنؤ میں دوران قیام ان کے ساتھ ایک حادثہ یہ پیش آیا کہ ان کی چار منکوحات میں سے ایک منکوحہ جو کہ' کوٹھے والی' کے نام سے موسوم تھیں وہ ایک قتل کے جرم میں ماخوذ تھیں ان کے مقدمہ کی پیروی کے سلسلے میں ان کا سارا اثاثہ ختم ہوگیا اس کے باوجود یہ ان کو سزا سے بچا نہ سکے اور ان کو کالا پانی بھیج دیا گیا، انہیں مالی پریشانیوں کی وجہ سے انہوں خیرآباد کی راہ لی اور بقیہ زندگی یہیں بسر کی ان کے محسن مہاراجہ محمودآباد نے جو وظیفہ مقرر کیا تھا اسی سے گزر بسر کرتے رہے .
ریاض خیرآبادی بطور شاعر، صحافی، مترجم اپنی شناخت رکھتے ہیں، بحیثیت شاعر ان کا شمار غزل گو شعراء میں ہوتا ہے لیکن غزل کے علاوہ دیگر اصناف سخن پر بھی طبع آزمائی جن میں نظمیں،مخمس، مسدس،قصیدے،عالم آشوب،مثنوی،سلام،نوید،سہرا،اور ترانہ وغیرہ شامل ہیں،ان کی رباعیات،قطعات اور طنزیہ نظمیں ان کو دوسرے شعراء سے ممتاز بناتی ہیں،ان کی رباعیات کثیر العنوان ہیں جو تصوف،ستائشی، اخلاقی،مذہبی،انفرادی اور ہجویہ موضوعات پر مبنی ہیں،ان کی غزلیات میں خمریات اور شباب کا چولی دامن کا ساتھ ہے،ریاض اردو کے پہلے شاعر ہیں جنہوں خمریات کے فن کو بخوبی اپنے کلام میں اتارا ہے،وہ رند ی نہ تھے اس کے باوجودانہوں رندانہ مستی میں ایسی شاعری کی ہے کہ یہ اندازہ لگا پانا مشکل ہے کہ انھوں نے کبھی اس کو ہاتھ تک نہیں لگایا ، ان کے شراب کے مضامین میں وہ بے ساختگی،ندرت بیانی،جذبات نگاری ملتی ہےجو کسی دوسرے شاعر کے کلام میں شاذ ہی ملے گی،انہوں نے شراب مجازی کو شباب سے جوڑا، خمریہ شاعری کے ضمن میں شراب ان کی ضرورت ہے، رندانہ تشکیل میں ان کی شوخ طبیعت کا اہم رول ہے، ان کی خمریاتی شاعری میں شراب حقیقی کا جو تخیل ہے وہ شراب معرفت ہے، انہوں نے شراب حقیقی کے ذریعے عارفانہ شاعری کے جو اعلی نمونے پیش کئے اس سے ان کی عظمت اور تقدس جھلتا ہے، ان کی شاعری کا ایک وصف ان کی زبان ہے،خمریات بلاشبہ ان کی عالمگیر شناخت تھی زبان کا خوبصورت استعمال اور مضامین کے لحاظ سے فنی محاسن ان کی ایسی خوبیاں ہے جو ان کی حیات میں اور اس کے بعد بھی قائم ہے، ان کے کلام میں شوخی اور سر مستی کے عناصر بھی بدرجہ اتم موجود ہیں، ان کی شاعری میں رجائیت اور جذبات کی فراوانی بھی ہے، ان کا اسلوب ادا اور ان کا پیرایۂ اظہار ان کی خمریہ شاعری تھی جس کی بنا پر ان کی انفرادیت قائم ہوتی ہے،رئیس احمد جعفری ندوی نے ان کے لئے بہت ہی بلیغ ترکیب"رند پارسا" وضع کی وہ لکھتے ہیں"ریاض نے شراب کے مضمون کو اردو زبان میں اپنا لیا ہے،جو لوگ شراب پی پی کر شعر کہتے ہیں اور شعر کہہ کہہ کر شراب پیتے ہیں،ان کے یہاں بھی شراب کے مضامین میں وہ بے ساختگی،وہ ادائے بیان وہ جذباتی ندرت نہیں ملے گی جو ریاض کے یہاں نظر آتی ہے"،ریاض کے کلام میں ابتدا سے انتہا تک شراب و شباب،رنگینی اور حسن وعشق کے عناصر غالب ہیں کیونکہ ریاض ایک طربیہ شاعر ہیں،ان کی شاعری میں جنسیات کا کافی دخل ہے، ان کی عشقیہ شاعری میں شوخی و بے باکی نمایاں پہلو ہیں، ان کی شوخ بیانی نے ان کے کلام میں دلکشی کو پیدا کیا ہے، ان کی شاعری میں خیالات وجذبات کیلئے عمر کی کوئی حد نہیں ہے، ان کی عشقیہ شاعری میں عیش ونشاط نمایاں ہے، ڈاکٹر اعجاز حسین لکھتے ہیں" ریاض صاحب کی عشقیہ شاعری میں شوخی کے ساتھ پر لطف طنز آمیز شرارت اور حقیقت آمیز معاملات کی دنیا نظر آتی ہے"، ان کی شاعری میں طنزو ظرافت کے مختلف پہلو ہیں،ان کی شاعری میں تصوفیانہ رنگ کی آمیزش ہے اور تصوف کے مختلف مسائل کو کلام میں موضوع بنایا ہے، فلسفیانہ عکس بھی ہے ریاض فلسفہ جبر و اختیار کے قائل ہیں،ان کی شاعری میں دبستانِ لکھنؤ کا پورا رنگ ڈھنگ ہے، انہوں لکھنوی طرزِ سخن کو تو اپنایا لیکن رعایت لفظی کو نہیں شامل کیا بلکہ لکھنوی نفاست،طرحداری کے ساتھ عشقیہ اور خمریہ کلام میں اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا ، وہ امیر مینائی کے سچے جانشین کے طور پر نظر آتے ہیں، انہوں نے شاعری میں روزمرہ کی زبان استعمال کی ہے،انہوں نے صاف شفاف،رواں دواں الفاظ اور ترکیبوں کے استعمال سے اپنے کلام میں جان پیدا کی ہے علوئے خیال اور پرواز فکر کے اعتبار سے پورے شاعر اور اسلوب بیانی کے لحاظ سے ان کا اپنا انفرادی رنگ آج بھی باقی ہے،رئیس احمد جعفری ندوی 'رند پارسا' میں لکھتے ہیں کہ"عربی زبان میں خمریات کا امام ابونواس تھا اور لاریب کہ عربی زبان اس کا کوئی حریف نہ پیدا کر سکی،فارسی زبان میں حافظ کی شراب معرفت اور شراب حقیقی لٹریچر میں ایک گراں بہا اضافہ ہے اور بلا شبہ فارسی زبان میں حافظ کا کوئی مد مقابل نہ پیدا ہو سکا، اردو زبان میں ریاض نے خمریات کو ایک مستقل حیثیت دی اور بے اندیشہ تردید کہا جاسکتا ہے کہ اردو زبان کا کوئی شاعر عام اس سے کہ وہ دہلی سے متعلق ہو یا لکھنؤ سے، میر و سودا کے زمانے کا ہو یا آتش وناسخ کے دور کا " لہرا کے بل کھاکے " شراب پیتا ہو یا "برسبیل تذکرہ " یہ شاعرانہ کیفیت اپنے اوپر طاری کر لیتا ہو ریاض سے بازی نہ لے جاسکا"،ان کی نظمیں بھی 'آ پ بیتی کی شکل میں سبق آموز ی کے نمونے پیش کرتی ہے، ان کی شاعری کا کچھ حصہ واقعاتی شاعری پر مشتمل ہے انہوں نے حسن وعشق،رنج والم،خوشی وغم،ہجر وفراق اور زندگی کے جو تجربے ان کی حقیقی زندگی میں پیش آئے اس کو شعری سانچہ میں ڈھالا.
ریاض نظم کے علاوہ نثر نگاری میں بھی مہارت رکھتے تھے،انہوں نے ترجمہ نگاری کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں کافی شہرت حاصل کی،ان کے جاری کردہ اخبارات میں ان کی انشا پردازی اور طرز نگارش کا شہرہ تھا، ان کے نثری اسلوب اور دلنشیں انداز کی وجہ اخبارو رسائل ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوجاتے تھے، انہوں شاعری اور صحافت کو ساتھ ساتھ رکھا اور دونوں میں فنی خوبیاں مشترک ہیں، ان کی انشاپردازی،ان کی شوخ نگاری،ان کی ٹھوس اور مدلل تحریر بھی اپنا جواب نہیں رکھتی تھی،انہوں نے اخبار نویسی اور انشا پردازی کو اپنا مستقل پیشہ بنایا اور شروع سے ہی اسی پر منحصر رہے،کثرت مطالعہ سے ان کی تحریروں میں بڑی وسعت تھی،انہوں ادبی،سنجیدہ نثرنگاری کے علاوہ طنز ومزاح پر دو رسالے نکالے جن سے ان کی خوش مذاقی اور ذہانت کا پتہ چلتا ہے،' فتنہ' اور 'عطر فتنہ' دونوں اخبار سنجیدہ شوخی کا بہترین نمونہ تھے، مولوی سبحان اللہ خان لکھتے ہیں کہ"جو خصوصیت ریاض کی انشاپردازی میں تھی وہ یہ تھی کہ کبھی کسی پر ذاتی حملہ نہیں کیا،نہ کبھی عامیانہ اردو لکھی اور ادبیت کے ایسے پہلو نمایاں کئے کہ لوگ باوجود اخبار کے ساتویں دن نکلنے ان کے مضامین پڑھنے کیلئے ایسے بیتاب ہوتے تھے جیسی آج کل روزانہ خبروں کیلئے بیتابی ہوتی ہے".
لسان الملک،امام خمریات، اردو کا ابو نواس کی 28 جولائی 1934ء میں علالت کے بعد وفات ہوئی اور اپنے پشتینی مکان محلہ قضیارہ کے احاطے میں مدفون ہوئے.
ریاض کی تخلیقات کی ٖفہرست درج ذیل ہے
1۔ ریاض رضوان
2۔ انتخاب ریاض
3۔ انتخاب کلام ریاض
4۔ نظارہ (ترجمہ انگلش )
5۔ حرم سرا (ترجمہ انگلش )
ہم بند کیے آنکھ تصور میں پڑے ہیں
ایسے میں کوئی چھم سے جو آ جائے تو کیا ہو
گھر میں دس ہوں تو یہ رونق نہیں ہوگی گھر میں
ایک دیوانے سے آباد ہے صحرا کیسا
اللہ رے نازکی کہ جواب سلام میں
ہاتھ اس کا اٹھ کے رہ گیا مہندی کے بوجھ سے
بچ جائے جوانی میں جو دنیا کی ہوا سے
ہوتا ہے فرشتہ کوئی انساں نہیں ہوتا
ہَماری آنکھوں میں آؤ تو ہَم دِکھائیں تُمہیں
اَدا تمہاری جو تم بِھی کہو کہ ہاں کچھ ہے
چشم رحم اے ساقیٔ کوثر کہ اب ملتا نہیں
تشنگان کربلا کے نام پر پانی مجھے
تم کیا مِٹا سکو گے اُسے دِل کا داغ ہے
نقشِ قدم نہیں جسے تم نے مِٹا دیا
ڈراتا ہے ہمیں محشر سے تو واعظ ارے جا بھی
یہ ہنگامے تو ہم نے روز کوئے یار میں دیکھے
قابو کا تمھارے بھی نہیں جوش جوانی
بے چھیڑے ہوئے ٹوٹتی ہے بند قبا آپ
جہاں ہم خشتِ خم رکھ دیں ، بِنائے کعبہ پڑتی ہے
جہاں ساغر پٹخ دیں ، چشمۂ زمزم نکلتا ہے
زندگی کا لطف ہے اڑتی رہے ہر دم ریاضؔ
ہم ہوں شیشے کی پری ہو گھر پری خانہ رہے
عالم ہو میں کچھ آواز سی آ جاتی ہے
چپکے چپکے کوئی کہتا ہے فسانہ دل کا
اب ٹھہرتا ہی نہیں سینے پر آنچل اُن کا
وہ جوانی میں بھرے اور ستم ڈھانے کو
جب کہہ کے ریاض اُسنے سر بزم پُکارا
بن بن کے کئی لوگ میرے نام کے اُٹھے
لاکھ پردوں میں کوئی اے نگہِ شوق رہے
دیکھ لے گا جو کوئی دیکھنے والا ہو گا
ہم جام مے کے بھی لب تر چوستے نہیں
چسکا پڑا ہوا ہے تمہاری زبان کا
دھوکے سے پلا دی تھی اسے بھی کوئی دو گھونٹ
پہلے سے بہت نرم ہے واعظ کی زباں اب
کوئی زمانہ میں روتا ہے کوئی ہنستا ہے
یہاں کسی سے کسی کی صدا نہیں ملتی
ظرف وضو ہے جام ہے اک خم ہے اک سبو
اک بوریا ہے میں ہوں مری خانقاہ ہے
نماز عید ہوئی میکدے میں دھوم سے آج
ریاض بادہ کشوں نے ہمیں امام کیا
مہندی لگائے بیٹھے ہیں کچھ اس ادا سے وہ
مٹھی میں ان کی دے دے کوئی دل نکال کے
ریاضؔ توبہ نہ ٹوٹے نہ مے کدہ چھوٹے
زباں کا پاس رہے وضع کا نباہ رہے
اتری تھی آسمان سے جو کل، اٹھا تولا
طاق حرم سے شیخ وہ بوتل تو اٹھا لا
وہ دن بھی آئے ہم ہوں اور گلیاں ہوں مدینے کی
گدایانہ صدا ہو ہاتھ میں کاسہ گدائی کا
اُٹھے کبھی گھبرا کے تو میخانے میں ہو آئے
پی آئے تو پھر بیٹھ رہے یادِ خدا میں
غم مجھے دیتے ہو اوروں کی خوشی کے واسطے
کیوں برے بنتے ہو تم ناحق کسی کے واسطے
توبہ کے توڑنے میں بھی آتا نہیں ہے لطف
جب تک شریک بادہ کوئی پارسا نہ ہو
ریاضؔ احساس خودداری پہ کتنی چوٹ لگتی ہے
کسی کے پاس جب جاتا ہے کوئی مدعا لے کر
پاؤں تو ان حسینوں کا منہ چوم لوں ریاضؔ
آج ان کی گالیوں نے بڑا ہی مزا دیا
یہ کہہ رہا ہے ترنم ہوا کی موجوں کا
خموش پھولوں کا حسن بیاں نہیں ملتا
کہاں کے شمع رو معشوق، دس جائیں تو بیس آئیں
رہیں جُھرمٹ حسینوں کے الٰہی میرے مدفن پر
تازگی سی آ گئی اُن کا تبسّم دیکھ کر
کِھل اُٹھیں کلیاں میرے مدفن کی مُرجھائی ہوئی