Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ریاض خیرآبادی

کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہوگا

کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہوگا

اے میں قربان وفا وعدۂ فردا ہوگا

 

حشر کے روز بھی کیا خون تمنا ہوگا

سامنے آئیں گے یا آج بھی پردا ہوگا

 

ہم نہیں جانتے ہیں حشر میں کیا کیا ہوگا

یہ خوشی ہے کہ وفا وعدۂ فردا ہوگا

 

تو بتا دے ہمیں صدقے ترے اے شان کرم

ہم گنہ گار ہیں کیا حشر ہمارا ہوگا

 

لاکھ پردوں میں کوئی اے نگہ شوق رہے

دیکھ لے گا جو کوئی دیکھنے والا ہوگا

 

ایسی لے دے ہوئی آ کر کہ الٰہی توبہ

ہم سمجھتے تھے کہ محشر میں تماشا ہوگا

 

سعی ہر گام میں کی ہے یہ سمجھ کر ہم نے

وہی ہوگا جو مشیت کا تقاضا ہوگا

 

پی کے آیا عرق شرم جبیں پر جو کبھی

چہرے پر بادہ کشو نور برستا ہوگا

 

رہنے دے گا نہ دم ذبح کوئی حلق کو خشک

میکدے میں ہمیں اتنا تو سہارا ہوگا

 

مجھے کیا ڈر ہے کہ ہوں گے مرے سرکار شفیع

مجھے کیا ڈر ہے کہ تو بخشنے والا ہوگا

 

شرم عصیاں سے نہیں اٹھتی ہیں پلکیں اپنی

ہم گنہ گار سے کیا حشر میں پردا ہوگا

 

کعبہ سنتے ہیں کہ گھر ہے بڑے داتا کا ریاضؔ

زندگی ہے تو فقیروں کا بھی پھیرا ہوگا