Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

تعارف

فہمیدہ ریاض

فہمیدہ ریاض 28 جولائ 1945کومیرٹھ (ہندوستان) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ریاض الدین احمد حیدرآباد سندھ میں شعبۂ تعلیم سے وابستہ تھے۔ ان کا شمار اپنے عہد کے ممتاز ماہرین تعلیم میں ہوتا تھا ۔ فہمیدہ ریاض چار برس کی تھیں کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔ ان کی والدہ حسنہ بیگم نے گھر کا نظام اور بچوں کی پرورش کی ذمہ داری سنبھالی اور اپنے بچوں کی بہترین تربیت کی۔ فہمیدہ ریاض کی ابتدائی تعلیم حیدر آباد سندھ میں ہوئ، حیدر آباد گورنمنٹ گرلز کالج سے انھوں نے گریجویشن کیا، کالج کے زمانے سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لینا، انقلابی تقریریں کرنا، اور احتجاجی مظاہروں میں شرکت ان کا محبوب مشغلہ بن گیا تھا ۔

فہمیدہ ریاض کو شاعری کا شوق بچپن سے ہی تھا ، ان کی پہلی نظم محض 15 برس کی عمر میں احمد ندیم قاسمی کے مجلہ “فنون “ میں شائع ہوئ تھی۔ ان کی عملی زندگی کا آغاز (گریجویشن کے دوران ہی) ریڈیو پاکستان سے نیوز کاسٹر کی حیثیت سے ہو گیا تھا ۔ 22 سال کی عمر میں پہلا شعری مجموعہ “پتھر کی زبان" منظر عام پر آیا اور بہت شہرت حاصل کی ۔ فہمیدہ ریاض کو اردو، انگریزی، سندھی، اور فارسی زبانوں پر خلاقانہ دسترس حاصل تھی ۔

1967میں فہمیدہ ریاض نے اپنے خاندان کی مرضی سے شادی کی اور شوہر کے ساتھ برطانیہ چلی گئیں ۔ دوران ِقیامِ برطانیہ انھوں نے برطانیہ کے نشریاتی ادارے بی بی سی اردو سروس میں ملازمت کی اور وہیں 1972میں فلم ٹیکنیک کا کورس کیا ، برطانیہ میں ہی ایک بچی کی پیدائش ہوئی اور اس کے ساتھ ہی شوہر نے طلاق دے دی، طلاق کے فوراً بعد یہ پاکستان واپس آگئیں اور کراچی میں ایک ایڈور ٹائزنگ کمپنی میں ملازم ہو گئیں۔ جلد ہی انھوں نے پاکستان سے اپنے ذاتی مجلہ “آواز” کی اشاعت کا آغاز سیاسی کارکن اور سندھی قوم پرست ظفر علی اجن کے ساتھ مل کر کیا۔ بعد میں انھیں سے باہمی رضامندی سے دوسری شادی بھی کی، جن سے ایک بیٹی ویرتا علی اجن اور بیٹا کبیر علی اجن پیدا ہوے ۔

فہمیدہ ریاض کو حکومتِ پاکستان نے احتجاجی رویے اور مجلہ  “آواز “ کو نہ بند کرنے کی بنا پر معزول کر دیا ، صدر ضیاءالحق کے دورانِ حکومت فہمیدہ ریاض کے  خاندان نے سات سال تک خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گرازی ، جلا وطنی کے عرصے میں وہ بطورِ مہمان شاعرہ جامعہ ملیہ میں قیام پذیر رہیں اور وہیں درس و تدریس کی خدمات انجام دیتی رہیں ۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت (1990-1988) میں پاکستان واپس گئیں اور نیشنل بک کاؤنسل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئیں، بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں وزارتِ ثقافت سے وابستہ رہیں۔ انھوں نے 2011-2000 تک اردو ڈکشنری بورڈ کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، ان خدمات کے اعتراف میں فہمیدہ ریاض کو مختلف انعاموں اور تمغوں کے نوازا گیا ۔ 2005 میں المفتاح ایوارڈ برائے حسن کارکردگی، حکومت پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز، اور 2017 میں Human Rights watch کی جانب سے Hemmet Hellman award برائے ادب سے سرفراز ہوئیں اس کے بعد شیخ ایاز ایوارڈ برائے ادب و شاعری حکومتِ سندھ کی جانب سے حاصل کیا۔

فہمیدہ ریاض کی پوری زندگی اردو ادب کی خدمت اور عورتوں کے حقوق اور مسائل کی جدو جہد سے عبارت ہے، خواتین کے مسائل، انسانیت کا وقار اور سر بلندی، حق گوئی و بے باکی، جنگ و جدال کے مسموم اثرات، تاریخ ، سیاست اور لوک ادب ان کے پسندیدہ موضوعات تھے۔

شاعری کے علاوہ فہمیدہ ریاض کو ترجمہ نگاری میں بھی خداداد صلاحیت حاصل تھی انھوں نے فارسی کی کئی کتابیں اردو میں منتقل کیں۔  انہوں نے عورت کی آزادی کے لئے مروجہ فرسودہ روایات و اقدار سے بغاوت کی اور اس کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا ۔ ان کی شاعری کی اہم خصوصیت روایت سے بغاوت اور احتجاج ہے۔ فہمیدہ ریاض کی شاعری میں عورتوں کے مسائل کے ساتھ ساتھ ملک کی سیاست اور غیر جمہوری نظام کے خلاف احتجاج کا جذبہ بھی ملتا ہے، اسی تناظر میں خالدہ حسین رقمطراز ہیں :

فہمیدہ ریاض ایک نظریاتی اور جدید شاعرہ ہے ، جس میں ایک انقلابی روح کروٹ لے رہی ہے۔  وہ استحصال سے پاک ایک جمہوری ، فلاحی معاشرہ قائم کرنے کے لئے میدان عمل میں اترنے کی بھی قائل ہے ، اس لئے اس کے نزدیک تخلیقی فن میں اس کا اظہار پانا ایک فطری عمل بلکہ فن کا فریضہ ہے اس کی شاعری کا رنگ انقلابی ہے مگر وہ نعرہ باز ہر گز نہیں ۔ اس کی تحریر میں جمالیات کا ایک پورا نظام ہے اور الفاظ میں حسیت کی شدت ہے

اردو ادب کی یہ معروف ادیبہ و شاعرہ 72 سال کی عمر میں 21 نومبر 2018 کو لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں، انہوں نے اپنے پیچھے بڑا بیش قیمت سرمایہ اردو ادب کے لئے چھوڑا ہے جس کی شاہد ان کی یہ تصانیف ہیں-:

1.   پتھر کی زبان  (شاعری ) 1967 میں 22 سال کی عمر میں شائع ہوا

2.    بدن دریدہ  ( شاعری ) 1973

3.   دھوپ  (شاعری ) 1975

4.    کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے (شاعری (

5.   ہم رکاب (شاعری(

6.   میں مٹی کی مورت ہوں ( کلیات ) 2013

7.    تم کبیر  (شاعری)2017