زندگی کی خواہش اور زندگی سے بیزاری کا احساس ،بے چارگی اور نامرادی کے حوصلہ شکن تجربے اور علم کی پیاس بجھانے کیلئے کائنات کی تسخیر کے منصوبے ،دنیا سے دوری کا خیال اور ایک نئی دنیا کی تعمیر کا خواب ،حال کی پابستگی اور ماضی کی بازدید کا جذبہ مستقبل کے امکانات کی جستجو، تھکن اور لاحاصلی کا کرب اور اندیکھی منزلوں کی تلاش ،فطرت کے ہر بھید کو تعقل کی روشنی سے بےحجاب کرنے کی ہوس اور ایک گو نہ بے خودی کا شوق ،بیسویں صدی کے فلسفیانہ افکار میلانات کی دیواریں ،انہیں تضادات کی بنیادوں پر استوار ہوئی ہیں ،ایک طرف ،انفرادیت کی لے تیز ہوئی ہے دوسری طرف، ایسے معاشرتی اور سماجی نظام کی تشکیل کے خواب بھی دیکھے گئے ہیں جہاں انفرادی آزادی کے بجائے ،اقتصادی مساوات کو تہذیبی ارتقا کا نصب العین سمجھا گیا ہے ،خدا کی موت کا اعلان ہوا اور نئے خداؤں کی دریافت بھی ،سرمایہ داری اور اشتراکیت ،عقلیت اور روحانیت ،ان کے علمبردار مختلف گروہوں ،فرقوں اور قوموں اور مسلکوں میں بٹے ہوئے اپنے اپنے طور پر تہذیب کی تعمیر اور انسانی مسائل کے حل کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ۔
o جدیدیت کے فلسفیانہ اساس ص 91/92