اسلام اور مسلمانوں پر انگریزوں کی طرف سے اعتراضات کے جواب میں ہندوستان کے مختلف علماء نے مختلف اداروں اورمحاذوں سے آواز اٹھائی، جب رسول پاک صلى الله علیہ وسلم کی سیرت پرکیچڑ اچھالا گیا توسرسید نے اس کا مدلل اور مکمل جواب دیا اور ان کے مفسدانہ خیالات کی قلعی کھولی، مولانا شبلی تو پوری زندگی مستشرقین کے پیدا کیے ہوئے پروپیگنڈہ کا پردہ فاش کرنے میں لگے رہے، قرآن کے عدیم الصحہ ہونے کا دعویٰ جب لندن ٹائمس میں کیا گیا تو مولانا شبلی نے اس پر پر زور تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ہم بتا دیں گے کہ قرآن مجید ہزاروں دلائل سے انجیل نہیں بن سکتا " اس ایک جملہ میں اس ذہنی کاوش کا پورا پس منظر سمٹ آیا ہے،جو مستشرقین کی ان کوششوں کامحرک تھا ، پادری بروچلی نے تعدد ازدواج پر اعتراضات کیے تو مولانا شبلی کا قلم حرکت میں آیا ،جرجی زیدان کی کتاب تاریخ تمدن اسلام کی پردہ دری کا کام مولانا شبلی نے ہی انجام دیا ، آرمینا کے جھگڑوں میں مستشرقین نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ اسلام میں عیسائی رعایا کے ساتھ ماضی میں شدید مظالم ہوچکے ہیں اور اسلام میں یہ ظلم جائز بلکہ ضروری قرار دیا گیا ہے،مولانا شبلی نے حقوق الزمیین اور الجزیہ لکھ کر ان الزام تراشیوں کوبے اثر کر دیا۔جب سیرت النبی پر قلم اٹھایا تو سب سے پہلے مستشرقین کے پیدا کیے ہوئے اثرات کا جائزہ لیا،اسی مقصد کے پیش نظرمولانا سید سلیمان ندوی نے ۱۲۔۱۹۱۱ء میں الندوہ میں ایک طویل سلسلہ مضامین شائع کیا جن میں مستشرقین کے کام کا جائزہ لیا گیا ہے۔
o اسلام اور مستشرقین،ص22و43