ڈاکٹر ایشوری پرساد سابق پروفیسر الٰہ آباد یونیورسٹی محمود کی عسکری اورسیاسی بصیرت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
" تاریخ میں محمود کا مقام طے کرنامشکل کام نہیں ،اپنے زمانے کے مسلمانوں کے سامنے وہ غازی اور دین کا حمایتی تھا،جس نے مشرکوں کے ملک سے بت پرستی ختم کرنے کی کوشش کی اور آج کے ہندوؤں کی نگاہ میں وہ ایک وحشی اور ظالم حقیقی ہوا تھا ،جس نے ان کی انتہائی مقدس عبادت گاہوں کو برباد اوروحشیانہ طور پر ان کے مذہبی احساسات کو مجروح کیا،لیکن ایک غیر جانب دار محقق جو اس زمانے کے خصوصی حالات کو دھیان میں رکھے گا تو لازمی طور پر دوسرا فیصلہ دے گا،محمود بلا شبہ اپنے ساتھیوں کا ایک عظیم رہنما تھا،وہ اپنی عقل سے کام کرنے والا معقول اور ایمان دارحکمراں،ایک جری اورلائق سپاہی ،منصف مزاج،ادب کا سرپرست اور دنیا کے سب سے بڑے بادشاہوں میں شمار کیے جانے کے لائق تھا۔"
ہندوستان کے عہد ماضی میں مسلمان حکمرانوں کی مذہبی رواداری،ص:29