غزل کی ارتقاء میں میر اور سودا کی شخصیتیں روشنی کے دو بلند میناروں کی حیثیت رکھتی ہیں ،یہ پہلے غزل گو تھے جنہوں نے دنیا کو ایک فرد کی آنکھ سے دیکھا ،مگر ہوا یہ کہ سودا کی غزل میں جو توانائی ،شدت اور رنگا رنگی ملتی ہے ،اس پر ان کی قصیدہ گوئی کا جادو اس طرح حاوی ہوا کہ دلی کے شعراء کا ایک بڑا حلقہ ان کے قصائد کو غزل کی ایک مخصوص لہر کا سر چشمہ سمجھا بیٹھا اور سنگلاخ زمینوں ،لفظی اور معنوی رعایتوں اور زبان کی سحر آفرینیوں کی بنیاد پر اس حلقے نے غزل کے سفر کا ایک راستہ مقرر کر دیا، اس راستے میں احساس کے اسرار اور دھند کی جگہ اظہار کی قطعیت چونکہ نمایاں تر تھی اور مشق ریاضت کے سہارے اس کا حصول نسبتاً سہل تھا ،اس لئے ذوق کے خاندان نے ایک میکانکی عمل کو غزل کو شعار بنادیا اور فکر کی سطحیت کا جواز فن کی بلندی میں ڈھونڈ لیا گیا ،غالب دنیا کو آئینہ آگہی سمجھتے تھے لیکن عام معاشرہ جس معاشی انحطاط اور ذہنی و فکری پراگندگی کا شکارتھا ،اس کے پیش نظر خود سے قریب آنے اور گردوپیش کی فضائے پس منظر میں خود کو سمجھنے کا مطلب ایک بڑی سچائی سے دوچار ہونا تھا ،چنانچہ بیش تر لوگ آپ اپنا عذاب بننے سے دامن بچاتے رہے ،اس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ غزل فرد کے اظہار کی جگہ اس کی پر فریب تردید کا نشان بن گئی ،مولانا حالی نے اس پر مقدمہ چلادیا اور اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے سائنسی تصورات کو قانوں فطرت کی حیثیت بخش دی ۔
o غزل کا نیا منظر نامہ ص 77و 78