ذاکر صاحب کی وضعداری یہ بھی تھی کہ وہ طلبہ کے ہوسٹلوں اور اساتذہ کے گھروں میں جاکر ان سے بے تکلفانہ گفتگو کرتے ٰ میرے کمرے میں بھی کئی بار آئے،ایک بار میں " سی ایف اینڈریوز" کی تصنیف " ذکاء اللہ آف دہلی " کا مطالعہ کر رہا تھا وہ تشریف لائے تو یہی کتاب موضوع بن گئی، میں نے عرض کیا کہ کیا مناسب ہوگا اگر میں اس کتاب کا ترجمہ اردو میں کردوں ؟ جواب میں فرمایا : پہلے ترجمہ کے ناشر کو ٹھیک کر لیجئے ورنہ ترجمہ کے بعد کوئی ناشر نہیں ملا تو محنت رائیگاں جائے گی، پھر بزرگانہ شفقت سے کہا کہ کچھ لوگ پڑھے ہوتے ہیں کچھ صرف لکھے ہوتے ہیں اور بہت کم " پڑھے لکھے" ہوتے ہیں، آپ پڑھے لکھے ہونے کی کوشش کیجئے ، زیادہ پڑھئے کم لکھئے ، پڑھنا لکھنا چھپنے کے لئے نہ ہو، چھپنے کے بعد غلط راہ پر پڑجانے کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے،جو چھپتے ہیں وہ لکھتے تو زیادہ ہیں لیکن پڑھتے کم ہیں۔
o ڈاکٹر ذاکر حسین کا خاکہ –یادرفتگان ج 2 ص49