اس مختصر حقیقت پسندی کے علاوہ یہاں پر اوردوسرے منصفانہ بیانات خود معترضین اسلام اور دوسرے ہندوں مؤرخوں کی تحریر کی روشنی میں تحریرکیے جاتے ہیں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آخر ان فرماں رواؤں کا رویہ اپنی رعایا کے ساتھ ایک ہی وقت میں متضاد کیوں کر ہوسکتا ہے،یاتو انہوں نے ہندوستان میں ظلم وبربریت کی روش اختیار کی ہوگی ، یا پھر انسانی ہمدردی اور رواداری کے اصولوں کو اپنا یا ہوگا،لہٰذا ان بیانات سے تو یہی معلوم ہوتا ہےکہ ان بادشاہوں کے متعلق بیشتر مؤرخوں نے تعصب سے کام لے کر پوری تاریخ کو مشکوک بنادیا ہے،چنانچہ جس اورنگ زیب کو سرجادوناتھ سرکار نے شجراسلام کا ایک کڑواپھل کہا ہے اس کی دوسری رائے اورنگ زیب کے متعلق یہ بھی ہے،
"جسمانی ہمت اورتمکنت کے علاوہ اس نے اوائل زندگی ہی سے بادشاہت کی مشقتوں اور خطروں کو اپنا شیوہ بنالیاتھااوراس عظیم الشان عہدہ کے لیے احترام ذات اورضبط نفس سے اپنے کوتیار کرلیا،بادشاہوں کےلڑکوں سےبالکل مختلف اورنگ زیب ایک وسیع النظر اور سلیم الفطرت عالم تھااورزندگی کی آخری سانس تک کتابوں سے محبت کرتا رہا،اگر ہم قرآن شریف کے ان متعدد نسخوں کو نظر انداز بھی کردیں جن کو اس نے اپنے ہاتھوں سے ایک عابد کی سرگرم ریاضت کے ساتھ لکھاتو بھی ہم اس کوفراموش نہیں کرسکتے کہ وہ ایک مشغول حکمراں ہونے کے باوجود اپنی قلیل فرصت کو عربی کی فقہی اور مذہبی کتابوں کے مطالعہ میں شوق سےگزارتااورپرانے اورنادر مخطوطات مثلا نہایہ،احیاء العلوم اوردیوان صائب کو کتابوں کے ایک کاہل عاشق کی ہوس سے ڈھونڈتا،اس کے کثرت رقعات،اس کی فارسی شاعری اور عربی ادب پر قدرت کی دلیل ہے،کیوں کہ وہ ہمیشہ اپنے خط کو مناسب اشعارواقتباسات سے مزین کرتا ہے،عربی اور فارسی کے علاوہ ترکی اور ہندی بھی آزادی کے ساتھ بول سکتا تھا،یہ اسی کی جودت طبع اور سرپرستی کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے پاس ہندوستان میں مسلمانوں کے قانون کا سب سے بڑاخلاصہ فتاویٰ عالم گیری ہے جو نہایت مناسب طورپر اسی کے ساتھ منسوب ہے اور جس نے بعد کے عہد میں اسلامی نظام عدل کو واضح طور پر آسان کردیا”۔
بزم تیموریہ، ص:222