امیر خسرو کی فارسی شاعری محض شاعری نہیں بلکہ ایک اعجاز ہے ،قصیدہ گوئی ہو ،مثنوی نگاری ہو ،غزل سرائی ہو، شاعری کی ہر صنف میں اپنا شاعرانہ کمال دکھاتے ہیں ،شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے “اخبار الاخیار “ میں لکھا ہے کہ امیر خسرو کے کلام میں جو برکات ہیں وہ گنہگار کے دل میں نہیں پائی جاسکتی ہیں ،برکات سے محروم لوگوں کے کلام کو مقبولیت اور قلبی اثر حاصل نہیں ہوسکتا (اخبار الاخیار ص 93-94) مولانا شبلی بھی رقم طراز ہیں کہ امیر کا ہر شعر جو بجلیاں گراتا ہے وہ اسی وادی ایمن یعنی تصوف کی شررباریاں ہیں (شعرالعجم حصہ دوم۔ 129) ان کے اشعار پڑھتے وقت محسوس ہوتا ہے کہ یہ خاص مجازی انداز میں کہے گئے ہیں ،مگر اسی کے ساتھ یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے اشعار کیا ہیں ،بقول مولانا شبلی آگ سے دھواں اٹھ رہا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ وہ رورہے ہیں ،روتے روتے ٹھہر جاتے ہیں اور جب رو لیتے ہیں تو آگے بڑھ جاتے ہیں ،ان کی طبیعت میں یہ سوز ، یہ گداز اور یہ درد آگینیاں ،صوفیانہ کیفیات سے پیدا ہوئی جو ان کو فطری طور پر حاصل تھیں، اور جن میں جلا ان کے مرشد کی ہوتی رہی ،ان کی مثنویوں ،قصیدوں اور غزلوں میں بعض ایسے اشعار ہیں ،جن میں وہی عارفانہ کیفیت بھری ہوئی ہیں جو اس راہ میں محسوس ہوا کرتی ہے ۔
o صوفی امیر خسرو صفحہ 99 و 100