Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

تنِ نحیف سے انبوہ جبر ہار گیا

اب آنسوؤں کے دھندلکے میں روشنی دیکھو
ہجومِ مرگ سے آوازِ زندگی کو سنو
سنو کہ تشنہ دہن مالکِ سبیل ہوئے
سنو کہ خاک بسر وارثِ فصیل ہوئے
ردائے چاک نے دستارِ شہ کو تار کیا
تنِ نحیف سے انبوہ جبر ہار گیا
سنو کہ حرص و ہوس، قہر و زہر کا ریلا
غبار و خار و خش و خاک ہی نے تھام لیا
سیاہیاں ہی مقدر ہوں جن نگاہوں کا
خدا بچائے ان آنکھوں کی شعلہ باری سے
ڈرو کہ زرد رخاں، نیم جاں و خستہ تناں
ہزار بار مرے اور لاکھ بار جیے!
وہ لوگ جن کو میسر نہ آئے مرہمِ وقت!
وہ لوگ تلخئ تقدیر بانٹ لیتے ہیں
وہ ہاتھ جن پہ ہو نفرت کا زنگ صدیوں سے
وہ ہاتھ لوہے کی دیوار کاٹ دیتے ہیں