ٹھہر جاؤ
بچھڑنے سے ذرا پہلے
تم اپنے دھیان میں رکھنا
مرے خوابوں کی ٹوٹی کرچیوں پر
پیر رکھو گے
تو اتنے زخم آئیں گے
کہ ساری عمر مرہم رکھتے رکھتے بیت جائے گی
مرے اشکوں کو اپنے ہاتھ سے محروم رکھنے کی سزا تو کاٹنی ہوگی
تم اپنی آنکھ کو بوجھل لیے جس جس کے در پر ٹھوکریں کھاتے پھرو گے
کوئی بھی آنسو نہیں چن پائے گا سن لو
مرے خوابوں سے مت الجھو
تم ان کے ٹوٹ جانے سے ذرا سا
خوف تو کھاؤ
ٹھہر جاؤ