Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

ٹھہر جاؤ

ٹھہر جاؤ

بچھڑنے سے ذرا پہلے

تم اپنے دھیان میں رکھنا

مرے خوابوں کی ٹوٹی کرچیوں پر

پیر رکھو گے

تو اتنے زخم آئیں گے

کہ ساری عمر مرہم رکھتے رکھتے بیت جائے گی

مرے اشکوں کو اپنے ہاتھ سے محروم رکھنے کی سزا تو کاٹنی ہوگی

تم اپنی آنکھ کو بوجھل لیے جس جس کے در پر ٹھوکریں کھاتے پھرو گے

کوئی بھی آنسو نہیں چن پائے گا سن لو

مرے خوابوں سے مت الجھو

تم ان کے ٹوٹ جانے سے ذرا سا

خوف تو کھاؤ

ٹھہر جاؤ