Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

سمجھوتہ

ملائم گرم سمجھوتے کی چادر !
یہ چادر میں نے برسوں میں بُنی
کہیں بھی سچ کے گُل بُوٹے نہیں ہیں
کِسی بھی جُھوٹ کا ٹانکا نہیں ہے
اِسی سے میں بھی تن ڈھک لُوں گی اپنا
اِسی سے تم بھی آسوُدہ رہو گے
نہ خوش ہو گے نہ پژمردہ رہو گے
اِسی کو تان کر بن جائے گا گھر
بِچھا لیں گے تو کِھل اُٹھے گا آنگن !
اُٹھا لیں گے تو، گِر جائے گی چلمن