Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

نادیدہ موسموں کے اسیر

نادیدہ موسموں کے اسیر

ہماری روح ہے نادیدہ موسموں کی اسیر

ہمارے واسطے دن رات ایک جیسے ہیں

ہماری خواہشیں اور آرزوئیں صدیوں سے

رہائشی ہیں کسی اور ہی علاقے کی

سو خواب بینی کی ہم کو کہاں اجازت ہے

ہر آنکھ ریت بھری ہے

ہر ایک سمت دھواں

اک آفتاب کی کرنیں جلا رہی ہیں بدن

کسی چراغ کی لو پر رکھی ہوئی ہے جاں

سلگ رہی ہے ہر اک لمحہ ڈور سانسوں کی

خیال و خواب سے بھی دور ہے ہری وادی

سنہری شام کی کرنیں افق میں کھو گئی ہیں

ہماری نیندیں کہیں اور تھک کے سو گئی ہیں