نادیدہ موسموں کے اسیر
ہماری روح ہے نادیدہ موسموں کی اسیر
ہمارے واسطے دن رات ایک جیسے ہیں
ہماری خواہشیں اور آرزوئیں صدیوں سے
رہائشی ہیں کسی اور ہی علاقے کی
سو خواب بینی کی ہم کو کہاں اجازت ہے
ہر آنکھ ریت بھری ہے
ہر ایک سمت دھواں
اک آفتاب کی کرنیں جلا رہی ہیں بدن
کسی چراغ کی لو پر رکھی ہوئی ہے جاں
سلگ رہی ہے ہر اک لمحہ ڈور سانسوں کی
خیال و خواب سے بھی دور ہے ہری وادی
سنہری شام کی کرنیں افق میں کھو گئی ہیں
ہماری نیندیں کہیں اور تھک کے سو گئی ہیں