Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

مسلم مسلم فسادات

مسلم مسلم فسادات

صبح دم جو دیکھا تھا

کیا ہرا بھرا گھر تھا

ڈانٹتی ہوئی بیوی

بھاگتے ہوئے بچے

رسیوں کی بانہوں میں

جھولتے ہوئے کپڑے

بولتے ہوئے برتن

جاگتے ہوئے چولھے

اک طرف کو گڑیا کا

ادھ بنا گھروندا تھا

دور ایک کونے میں

سائیکل کا پہیا تھا

مرغیوں کے ڈربے تھے

کابکیں تھیں، پنجرا تھا

تیس گز کے آنگن میں

سب ہی کچھ تو رکھا تھا

ایک پل میں یہ منظر

کیوں بدل سا جاتا ہے

اک دھواں سا اٹھتا ہے

ہاں مگر دھندلکے میں

کچھ دکھائی دیتا ہے

جانماز کا کونا

جھاڑیوں میں الجھا ہے

صفحۂ کلام پاک

خاک پر لرزتا ہے

ساتھ اور خبروں کے

یہ خبر بھی چھپتی ہے

لوگ اس کو پڑھتے ہیں

باتیں ہوتی رہتی ہیں

کام چلتے رہتے ہیں

ایمبولینس ایدھی کی

بین کرتی آتی ہے

سب جلی کٹی لاشیں

ساتھ لے کے جاتی ہے

صبح تک سبھی لاشیں

دفن کر دی جاتی ہیں

عورتوں کی بچوں کی

بوڑھوں اور جوانوں کی

مسجدوں سے ہوتی ہیں

بارشیں اذانوں کی

لا الہ الا اللہ

لاالہ الا اللہ