Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

محبتوں کا حسین دن ہے

محبتوں کا حسین دن ہے

ہر ایک جانب ہی گل کھلے ہیں

گلاب دینا

گلاب لینا

بنی محبت کی رسم کوئی

کہ سال میں ایک دن محبت کے نام کر کے یہ لوگ خوش ہیں

کہ ہم محبت منا رہے ہیں

کہ ہم محبت نبھا رہے ہیں

میں مانتی ہوں محبتوں کو

مگر مرا یہ یقیں ہے لوگو

مری محبت نہیں ہے محتاج ایک دن کی

کہ تین سو پینسٹھ دنوں کا ہر ایک لمحہ

تمام سینے سے نکلی سانسیں

تمام میرے عمل ، محبت

میں خود سراپا۔ عشق ہوں

سو میری تو زںدگی ، محبت