محبتوں کا حسین دن ہے
ہر ایک جانب ہی گل کھلے ہیں
گلاب دینا
گلاب لینا
بنی محبت کی رسم کوئی
کہ سال میں ایک دن محبت کے نام کر کے یہ لوگ خوش ہیں
کہ ہم محبت منا رہے ہیں
کہ ہم محبت نبھا رہے ہیں
میں مانتی ہوں محبتوں کو
مگر مرا یہ یقیں ہے لوگو
مری محبت نہیں ہے محتاج ایک دن کی
کہ تین سو پینسٹھ دنوں کا ہر ایک لمحہ
تمام سینے سے نکلی سانسیں
تمام میرے عمل ، محبت
میں خود سراپا۔ عشق ہوں
سو میری تو زںدگی ، محبت