Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


عنبریں حسیب عنبر

محبت

گھڑی کی ٹک ٹک جو سوئی کو ٹیکتے گزرتی

تمہیں یہ محسوس ہونے لگتا

کہ جیسے سر پر کئی ہتھوڑے برس رہے ہیں

تمہاری کرسی کی چرچراہٹ

تمہاری تنہائیوں پہ لگتا کہ بین کرتی کوئی ردالی

ادھر میں اپنے جہان‌ رنگیں میں جی رہی تھی

کہ میرے اطراف زندگی تھی

بہار تازہ بھی دل کشی تھی

حسیں ملائم سی روشنی تھی

پھر ایک دن اتفاق سے مل گئے تھے ہم تم

محبتوں کے اسیر ہو کر چلے تھے ہم تم

مگر سفر میں نہ جانے کیسے کہاں پے آخر

یہ موڑ آیا

نصیب نے پھر یہ دن دکھایا

حقیقتوں کو زوال آیا

تم آج اپنے جہان رنگیں میں جی رہے ہو

میں اپنے کمرے میں گہری تنہائیوں میں گم تھا