گل پری کو اماں باوا لائے تھے لاہور میں
بادشاہی مسجد اور قلعہ دکھانے کے لئے
گل پری کے جسم کے ننھے سے خم پر چھوٹا بھائی بھی ٹکا تھا
شہر دیکھا، چھولے کھائے، ٹھنڈی بوتل بھی اڑائی
اور جاتے وقت پھر ماں باپ اس کو چھوڑ آئے
چودھری صاحب کے گھر
گل پری رونے لگی
”بے بے مجھ کو ساتھ لے چل
مجھ کو نکا اور گھر دونوں بہت یاد آئیں گے ”
ماں نے سمجھایا کہ گلو
چودھری صاحب بہت دھنوان ہیں
ان کی بیگم کے بہت احسان ہیں
گاؤں کی آدھی زمینیں چودھری صاحب کی ہیں
ان کی خدمت تو کرے گی
فائدہ ہم سب کو ہوگا
چھ مہینے بعد ملنے آئیں گے
اور تری تنخواہ لے کر جائیں گے
سرخ پھولوں والی چادر کا تجھے ارمان ہے
تیرے پیسوں سے تجھے دلوائیں گے
گل پری پھر خدمتوں میں لگ گئی
کپڑے دھونا، برتنوں کو صاف کرنا
جھاڑو دینا اور پھر پونچھا لگانا
تیسری منزل پہ چائے لے کے جانا
اور جب بیگم نہ ہوں تو
چودھری صاحب کے کندھوں اور پیروں کو دبانا
رات کو جب سونے جاتی
تھک کے بالکل ٹوٹ جاتی
آیۃ الکرسی کا پھر کرتی حصار
نیند کے اندھے کنویں میں ڈوب جاتی
گل پری کا ایک ہی ارمان تھا
دیر تک سوتی رہے
سرخ پھولوں والی چادر اوڑھ کر
دن چڑھے تک دیر تک سوتی رہے
چھ مہینے بعد اس کا باپ آیا
نوکروں نے اس کو بتلایا
”چودھری صاحب تو پرسوں ملک سے باہر گئے
اور رہیں بیگم تو وہ پہلے سے امریکہ میں ہیں
گل پری گھر پر نہیں ہے وہ دوا خانے میں ہے
یہ رہی چھ ماہ کی تنخواہ
گن لو ٹھیک سے
پھر کہو گے ہم نے پیسے کم دیے ”
باپ کچھ گھبرا گیا
”گل پری کو کیا ہواوہ کیوں دوا خانے میں ہے“
”تیسری منزل سے نیچے گرپڑی تھی
جاؤ اس کو دیکھ آؤ ”
وہ دوا خانے گیا
توڈاکٹر نے ایک کاغذ ہاتھ میں پکڑادیا
اور انگوٹھے کا نشاں بھی لے لیا
پھر کہا، بابا ہمیں افسوس ہے
گل پری تو مرگئی
جسم کی ایک ایک ہڈی ٹکڑے ٹکڑے ہوچکی تھی
کل مری ہے خون اب تک بہہ رہا ہے
باپ جب اندر گیا تو اس نے دیکھا
اس کی بیٹی سو رہی تھی
سرخ پھولوں والی چادر اوڑھ کر
نیند اس کی سب سے پہلی آرزو تھی
سرخ پھولوں والی چادر
سب سے پہلا خواب تھا
دونوں پورے ہوچکے تھے
دن کبھی کا چڑھ چکاتھا