Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

جاودانی

جاودانی

چھو لیا تجھے !

تو یہ لگا کہ جیسے دیوتا کا لمس پا لیا !

مرے پُنَل تمہارے لمس کو تمہاری سسّیاں ترس گئیں !

برس گئیں وہ بدلیاں جو مدتوں سے قید تھیں سلونیوں کے نین میں !

وہ ذائقہ نہیں رہا ہے بین میں ! جو تھا کبھی !

ملا مجھے ! وہ ذائقہ !

وہ مرثیوں کے سیاہ سے لباس میں پڑا ہوا وہ ذائقہ !

جسے فقط یتیم چکھ سکے !

وہ ذائقہ ! جسے کلام کے نشے میں بس کلیم چکھ سکے !

وہ ذائقہ ملا مجھے !

تو یہ لگا سپھل ہوئی !

سپھل ہوئی مری حیات کی تمام تر ریاضتیں !

ریاضتوں کے بعد کی بناوٹیں نگل گئیں !

تو جل گیا تمام شہرِ آرزو ہی جل گیا !

وہ جس کو آج بھیجنا تھا کَل گیا !

جو مدتوں سے ایک ہی ردھم میں چل رہا تھا دل ! مچل گیا !

مگر سپھل ہوئی !

میں تیرے در پہ روح کو نماز میں ہی سجدہ ریز چھوڑ کر

ترے ہی سنگ الجھنوں کی سیر کو نکل گئی !

وجود تیری ذات ہے

وجود تیری ذات سے وجود ہے

وجود میں وجود ہی نہیں تو پھر قیام نہ سجود ہے

مگر مرے وجود کا قیام تیرے سنگ ہے

مرے وجود پر ترا ہی رنگ ہے

جو روح کی سُرنگ ہے وہ راستہ ہے تیری روح کا !

وجود قید ہے تو کیا ہوا !

ترے وجود کی میں دوغلی اداؤں سے نکل پڑی

تو چھو لیا تجھے !

تو یہ لگا !

سپھل ہوئی !

سو اب وجود کی نہ کوئی فکر ہے

نہ اس کا کوئی ذکر ہے کہیں

سو یہ لگا !

کہ روح روح میں اتر گئی

جو قسمتوں کی تھی بھدی سی شکل وہ سنور گئی !

اک ایسی رات مل گئی

مجھے تو اپنی ذات میں ہی تیری ذات مل گئی

جو چھو لیا تجھے تو یہ لگا !

کہ میں جو مدتوں سے بے حیات تھی

مجھے حیات مل گئی