Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

ایک لڑکی

کیسا سخت طوفاں تھا
کتنی تیز بارش تھی
اور میں ایسے موسم میں
جانے کیوں بھٹکتی تھی

وہ سڑک کے اُس جانب
روشنی کے کھمبے سے
سر لگائے اِستادہ
آنے والے گاہک کے
اِنتظار میں گُم تھی
خال و خد کی آرائش
بہہ رہی تھی بارش میں
تیرِ نوکِ مژگاں‌ کے
مِل گئے تھے مٹی میں

گیسوؤں کی خوش رنگی
اُڑ رہی تھی جھونکوں میں
میں نے دِل میں یہ سوچا
آب و باد کا ریلا
اُس کو راکھ کر دے گا
یہ سجا بنا چہرہ
کیا ڈراؤنا ہو گا
پھر بھی اُس کو لے جانا
آنے والے گاہک کا
اپنا حوصلہ ہو گا

بارشوں نے جب اُس کا
رنگ و رُوپ دھو ڈالا
میں نے ڈرتے ڈرتے پھر
اُس کو غور سے دیکھا
سیدھا سادھا چہرہ تھا
بھولا بھالا نقشا تھا
رنگِ کم سنی جس پر
کیسے دُھل کے آیا تھا
زرد پُھول سا پتا
گیسوؤں میں اُلجھا تھا
شبنمی سا اِک قطرہ
آنکھ پر لرزتا تھا
راکھ کی جگہ اُس جا
اِک دِیا سا جلتا تھا

مجھ کو یوں لگا ایسے
جیسے میری بیٹی ہو
میری ناز کی پالی
میری کوکھ جائی ہو
ڈال سے بندھا جُھولا
طاق میں سجی گڑیاں
گھر میں چھوڑ آئی ہو
تیز تیز چلنے پر
میں نے اُس کو ٹوکا ہو
ھاتھ تھام لینے پر
میرا اُس کا جھگڑا ہو
کھو گئی ہو میلے میں
بہہ گئی ہو ریلے میں
اور پھر اندھیرے میں
اپنے گھر کا دروازہ
خود نہ دیکھ پائی ہو

دفعتاً یہ دل چاہا
اس کو گود میں بھر لوُں
لے کے بھاگ جاؤں میں
ہاتھ جوڑ لوُں اُس کے
چُوم لوُں یہ پیشانی
اور اُسے مناؤں میں
پھر سے اپنے آنچل کا
گھونسلا بناؤں میں
اور اُسے چھپاؤں میں