Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

ڈرو اس وقت سے

ہر طرف دور فراموشی ہے
ذہن سہما ہوا بیٹھا ہے کہیں
اپنے اطراف حفاظت کی طنابیں گاڑے
جب کوئی بات نہیں یاد اس کو
پھر یہ دہشت کا سبب کیا معنی
اور حفاظت کا جنوں کیسا ہے

ڈرو اس وقت سے جب ایسا خوف
جس کے اسباب نہیں ملتے ہیں
زندگانی میں چلا آتا ہے

روح وجدان بھٹک جاتی ہے
طرز افکار بدل جاتی ہے
صحرا آ جاتے ہیں دیواروں میں
آسمانوں کے ورق کھلتے ہیں
جوق در جوق پرے روحوں کے
چلتے پھرتے نظر آ جاتے ہیں
اور زمیں کانچ کے ٹکڑوں کی طرح ٹوٹتی ہے

وہم تصویر میں ڈھل جاتا ہے
کم نگاہی کا تسلط چپ چاپ
دوراندیشی کو کھا جاتا ہے
ڈرو اس وقت سے جب ایسا خوف
زندگانی میں چلا آتا ہے
جس کے اسباب نہیں ملتے ہیں