عجب بچپنا تھا
کہ میں ننھے پیروں میں
سینڈل تمہارے بڑے سے پہن کر
دوپٹے کی لمبی سی چٹیا بنا کر
سمجھتی رہی تھی کہ میں بھی تمہاری طرح ہوں
مگر میں غلط تھی
حقیقت کا ادراک تو اب ہوا ہے
کہ سینڈل تمہارے پہن کر بھی قامت میں
میں تم سے کم ہوں
تمہارے دوپٹے سے چٹیا گھنیری بنا لوں مگر
چھاؤں تو پھر بھی تم سی نہیں ہے
بہت سال گزرے
مرا بچپنا جب سے رخصت ہوا ہے
میں یہ سوچتی ہوں
نہیں---- ہم سری تم سے ممکن نہیں ماں!
عجب بچپنا تھا