Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


عنبریں حسیب عنبر

بچپنا

عجب بچپنا تھا

کہ میں ننھے پیروں میں

سینڈل تمہارے بڑے سے پہن کر

دوپٹے کی لمبی سی چٹیا بنا کر

سمجھتی رہی تھی کہ میں بھی تمہاری طرح ہوں

مگر میں غلط تھی

حقیقت کا ادراک تو اب ہوا ہے

کہ سینڈل تمہارے پہن کر بھی قامت میں

میں تم سے کم ہوں

تمہارے دوپٹے سے چٹیا گھنیری بنا لوں مگر

چھاؤں تو پھر بھی تم سی نہیں ہے

بہت سال گزرے

مرا بچپنا جب سے رخصت ہوا ہے

میں یہ سوچتی ہوں

نہیں---- ہم سری تم سے ممکن نہیں ماں!

عجب بچپنا تھا