Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

اگر تُم کہو تَو

اگر تُم کہو تَو

اگر تُم کہو تَو

مَیں وہ ساری باتیں ہَواؤں سے کہدُوں

جو آنکھوں ہی آنکھوں میں ہَم نے کہی ہیں

اِشاروں اِشاروں میں ہَم نے سُنی ہیں

کہ یہ آتے جاتے ہُوۓ نَرم جھونکے

ہر راستے پر مِری راہ روکے

کبھی میرے بالوں سے گجرا گِرا کر

کبھی میرے شانے کا پَلُّو ہِلا کر

مُجھے اِس طَرَح چھڑتے ہیں کہ جیسے

وہ سَب جانتے ہیں

اگر تُم کہو تَو

مَیں اَپنی فسُردَہ دِلی کے فسانے

اُمڈتے ہُوۓ بادلوں کو سُنا دُوں

فسانے جو خاموشیوں نے سُنے ہیں

جِنھیں سُن کے دِیوار و دَر رو دیۓ ہیں

کہ یہ رَس کے رَسیا

یہ گھنگور بادل

چُھپاۓ ہُوۓ اَپنی اَمرَت کی چھاگل

گرَج کر ڈرا کر

مِرے گھر پہ چھا کر

مُجھے اِس طَرَح دیکھتے ہیں کہ جیسے

وہ سب جانتے ہوں

اگر تُم کہو تَو

مَیں اَپنی کہانی سَمندَر سے کہدُوں

سَمندَر ہمارے جُنُوں کی علامَت

سَمندَر ہمارے سُکُوں کا نِشاں بھی

سَمندَر کہ طاقَت بھی، وُسعَت بھی، ماں بھی

جَبھی تَو سمندر کے وِیران گوشے

چٹانوں کی پَلکوں کے نَمکِین قطرے

وہ خود رَو بَبُولوں کے آزردَہ ساۓ

چَٹَختی زمِینوں کے مایُوس چہرے

مُجھے اِس طَرَح چاہتے ہیں کہ جیسے

وہ سب جانتے ہوں