Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

تعارف

مولانا عبدالسلام قدوائی ندوی

مولانا عبدالسلام قدوائی ندوی7 مارچ 1907  کو تھولینڈی ضلع رائے بریلی میں پیدا ہوئے، آپ نے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے دینی علوم کی تحصیل کی، اس کے بعد جدید علوم اور انگریزی زبان سے آگہی کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی تشریف لے گئے اور اسی زمانے میں ممبئی کے مشہور اخبار

"خلافت" کے شریک ادارت بھی رہے.

آپ کے محبوب اساتذہ کی فہرست میں علامہ سید سلیمان ندوی، شیخ الحدیث مولانا حیدر حسن خان ٹونکی، مولانا شبلی جیراجپوری، اور مولانا عبدالرحمن ندوی نگرامی شامل ہیں، حضرت مولانا علی میاں ندوی آپ کے ہم سبق تھے وہ آپ سے عمر میں سات سال چھوٹے تھے لیکن شاید خدائے پاک کو آپ دونوں کی رفاقت مطلوب تھی اس لیے تعلیم کے آخری مراحل میں ساتھ ہوگیا، اور پھر ان کے درمیان رفاقت و محبت کا ایسا مضبوط تعلق استوار ہوا جو عمر کے آخری دم تک قائم رہا. یہ مدت تقریبا پانچ دہائیوں پر محیط ہے۔

آپ 1934 میں ندوۃ العلماء لکھنؤ کے حلقہ تدریس سے وابستہ ہوئے اور پڑھانے کے لیے اقتصادیات و تاریخ کے مضامین سپرد ہوئے لیکن جلد ہی عربی اور دینیات کے اسباق بھی پڑھانے کو مل گئے۔ مطالعہ کی وسعت وتنوع کی وجہ سے جب ندوہ کے تاریخ ساز ماہنامہ "الندوۃ" کے تیسرے دور کے اجرا کا وقت آیا تو اس کی ادارت کے لیے سید الطائفہ علامہ سید سلیمان ندوی کی نظر انتخاب آپ ہی پر پڑی اور حضرت مولانا علی میاں ندوی آپ کے شریک ادارت ہوئے، یہ رسالہ 1940 تا 1942 کامیابی کے ساتھ نکلتا رہا اس کے بعد مالی کٹھنائیوں کی وجہ سے بند ہوگیا۔

پھر 1943 میں کچھ خاص وجوہات کی بنا پر آپ کو مجبورا ندوہ العلماء سے علیحدگی اختیار کرنی پڑی، حالانکہ یہ آپ کے لیے آسان نہ تھا آپ کو ندوۃ العلماء سے بے پناہ محبت تھی ندوہ کی تحریک کی پوری تاریخ آپ کے ذہن میں مرتسم تھی، آپ کو ندوہ کے بانیان اور کارکنان سے پوری واقفیت تھی، آپ کو ندوہ کے مقاصد اس کی صداقت اور اس عہد میں اس کی ضرورت پر غیر متزلزل یقین تھا، آپ ندوہ کی تحریک اور اس کی دعوت سے پوری زندگی کبھی لاتعلق نہیں رہ سکے، ندوہ آپ کے مزاج میں اس طرح رچ بس گیا تھا جیسے پھول میں خوشبو، اور آپ کا تعلق ندوہ سے اس طرح قائم ہوگیا تھا جیسے گوشت اور ناخن، اس لیے ندوہ سے آپ کی علیحدگی ذہنی صدمہ کا موجب بن سکتی تھی،

لیکن اللہ جزائے خیر دے کہ لکھنؤ کی ان صاحب ذوق چند شخصیات اور حضرت مولانا علی میاں ندوی کو کہ جن کی کوششوں سے آپ نے لکھنؤ میں  "ادارہ تعلیمات دین" کی بنیاد ڈالی جو آپ کے علمی ذوق کی تسکین اور عملی سرگرمیوں کا مرکز بنا، آپ نے وہاں قرآن مجید اور عربی کے کم از کم قواعد کی مدد سے عربی زبان سکھانے اور قرآن مجید کے فہم ومطالعہ کا بیڑا اٹھایا، اس کے لیے آپ  نے "عربی زبان کے دس سبق" کے نام سے ایک رسالہ تیار کیا جو بے حد مقبول ہوا اور بہت ساری جگہوں پر داخل نصاب بھی ہوا ، اسی کے ساتھ تمرین الدروس اور قرآن مجید کی پہلی دوسری اور تیسری کتاب کا سلسلہ شروع بھی کیا، مولانا کی مساعی جمیلہ سے لکھنؤ میں سکریٹریٹ اور دفتروں میں کام کرنے والے، کالجوں میں پڑھنے والے انگریزی تعلیم یافتہ طبقے کے لوگ ان دروس میں شرکت کرنے لگے اور ان کے اندر دینی ذوق اور عربی کا شوق پیدا ہوگیا اور بہت سے لوگ قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے کے قابل ہوگئے، اسی زمانے یعنی 1948 میں آپ نے مولانا علی میاں کے ساتھ ایک رسالہ "تعمیر" بھی نکالا جس میں انتہائی فکر انگیز اور ایمان افروز مضامین شائع ہوتے تھے بالآخر یہ رسالہ بھی مالی بحران کا شکار ہوکر بند ہوگیا۔

یہ مشکل وقت گزر ہی رہا تھا کہ اسی دوران آپ کے استاذ ڈاکٹر ذاکر حسین (سابق صدر جمہوریہ ہند) نے جو آپ کے قدر داں بھی تھے، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں بحیثیت ناظم دینیات آنے کی دعوت دی چنانچہ 7 اگست 1951 کو آپ صدر شعبہ دینیات کی حیثیت سے وہاں منتقل ہوگئے اور بہت کم مدت میں وہاں کے قدیم وجدید حلقوں میں مقبول ہوگئے، آپ اکیس سالوں تک وہاں کے تمام مذہبی امور کی ذمہ داریاں سنبھالتے رہے۔

30 اپریل 1972 کو جامعہ سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ یکسوئی کے ساتھ اپنے وطن میں تصنیف وتالیف کا کام انجام دینا چاہتے تھے لیکن ندوہ کی انتظامیہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور 5 اکتوبر 1972 کو باتفاق رائے آپ کو ندوہ کا معتمد تعلیمات منتخب کیا گیا۔

ادھر 1975 ء میں دارالمصنفین کے ناظم شاہ معین الدین احمد ندوی انتقال کا ہوگیا اور وہاں کی رونق اجڑ گئی اس لیے حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ کی خواہش اور اصرار پر آپ دارالمصنفین کی کشتی کے دیدبان بن کر گئے، آپ کے جانے سے دار المصنفین کی سرگرمیوں میں شادابی، اس کی امید کے پھولوں میں رعنائی اور اس کی تمناؤں کے مرغزاروں میں دلفریبی پیدا ہونے لگی، آپ اپنی زندگی میں تین اداروں سے وابستہ رہے اور ان تینوں اداروں سے آپ کو عشق رہا، سید صباح الدین عبدالرحمن رقم طراز ہیں کہ "ندوہ ان کی لیلی تھی، جامعہ ملیہ ان کی عذراء تھی اور دارالمصنفین ان کے لیے شیریں بنی ہوئی تھی" ( بحوالہ بزم رفتگاں ص 274(

آپ اردو کے ایک منجھے ہوئے اور پختہ کار لکھاری تھے، آپ کی تحریر میں زبان یا محاورے کی غلطیاں ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملتی تھیں، آپ سادہ اردو لکھتے تھے اور اسی کو پسند کرتے تھے آپ کی تحریر میں ایک خاص قسم کی حلاوت، روانی اور برجستگی ہوتی تھی آپ کا طبعی اور پسندیدہ موضوع تاریخ تھا اگر آپ مستقل تصنیف وتالیف کے مشغلہ کو اپناتے تو بقول مولانا علی میاں ندوی آپ کا شمار ہندستان کے عظیم مصنفین اور اہل قلم میں ہوتا۔

مولانا کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی شرافت نفس، تواضع اور انکساری تھی، وہ ایک بے آزار شخصیت کے مالک تھے، بقول حضرت مولانا علی میاں ندوی "اللہ تعالی نے انھیں بچوں کی سی معصوم فطرت دی تھی وہی بے ساختگی، وہی بے تکلفی، کسی کو نقصان پہنچانے، کسی کا دل دکھانے کی یا تو صلاحیت نہیں تھی یا تھی تو ۔۔۔۔ بہت محدود جس کو انھوں نے شاید عمر بھر استعمال نہ کیا ہو" ( بحوالہ پرانے چراغ ج 2 ص 262(

مولانا کے مزاج میں بڑی بے تکلفی وسادگی تھی طلبہ کے ساتھ شفقت، ان کے ذاتی معاملات سے دلچسپی وہمدردی اور ان کے ساتھ مساوات ان کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی وہ احکام وضوابط سے زیادہ افہام وتفہیم اور نصیحت وتلقین پر یقین رکھتے تھے اسی لیے طلبہ ان سے بہت زیادہ انس محسوس کرتے تھے۔

آخر 24 اگست 1979 ء کو ان کا وقت موعود آ پہونچا وہ رمضان کی تیس تاریخ اور جمعہ کا دن تھا کہ عین اذان کے وقت گیارہ بجے ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی اور یکم شوال عید کے دن ان کے اپنے وطن کے ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں جن میں بڑی تعداد میں غیر مسلموں کی بھی تھی گوناگوں خوبیوں کے اس مجسمے کو سپرد خاک کیاگیا، نماز جنازہ حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ نے پڑھائی۔

آپ کی چند اہم تصنیفات درج ذیل ہیں :-

1.   ہماری بادشاہی (مختصر تاریخ اسلام(

2.    ہندستان کی کہانی (مختصر تاریخ ہند(

3.   دنیا اسلام سے پہلے اور اس کے بعد

4.    عربی زبان کے دس سبق