Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

تعارف

مہراج سرکشن پرشاد شاد

مہاراجہ سرکشن پرشاد 28 جنوری 1864ء کو چندولال کی ڈیوڑھی حیدرآباد میں پیدا ہوئے ،ان کی والدہ زوجہ ہری کشن پرشاد مہاراجہ نارائن پرشاد نریندر بہادر کی اکلوتی صاحبزادی تھیں،ان کے کوئی اولاد نرینہ نہ تھی اس لئے مہاراجہ کشن پرشاد ہی ان کے جائز وارث تسلیم کیے گئے، مہاراجہ نریندر بہادر دولت آصفیہ میں پیش کار کے عہدہ پر مامور تھے،مہاراجہ باپ کی طرف سے سورج بنسی اور ماں کی طرف سے چندر بنسی چھتری النسل تھے، مہاراجہ نے اپنے نانا کی سرپرستی میں مختلف علوم وفنون ماہرین اساتذہ سےحاصل کیا جن میں فارسی مرزاعلی بابا شیرازی سے،عربی سید خلیل سے،انگریزی نرسمہاچاری سے،سنسکرت درگاپرشاد سے،خطاطی رائے بچولال سے،تیر اندازی میر عظمت علی سے،شہسواری محمد جلال الدین سے سیکھی،ان کو شاعری کا بچپن سے ہی شوق تھا ان کے جد امجد راجہ چندولال بھی صاحب دیوان شاعر تھے بچولال تمکین سے اصلاح سخن لیا کرتے تھے اور شاد تخلص فرماتے تھے،تمکین کے انتقال کے بعد انہوں نے میر عبدالعلی والہ اور محمد مظفرالدین معلؔی سے بھی مشورہ سخن لیا،جب داغ حیدر آباد وارد ہوئے تو میر محبوب علی خان آصف جاہ سادس اورمہاراجہ نے فصیح الملک مزرا داغؔ کی شاگردی اختیار کی،ان کے نانا نے اپنی حیات میں ہی ان کو اپناجانشین مقرر کردیا تھا اور راجہ بہادر کا خطاب بھی عطا کیا تھا، راجہ نریندر بہادر کی 1889ء میں وفات ہوئی تو تین چار سالوں تک اختلافات کی وجہ سے ان کو موروثی عہدہ نہ مل سکا لیکن 1894ء میں بالآخر دولت آصفیہ میں بطور پیش کار اپنی عملی اور سیاسی زندگی کی شروعات کی اس کے ساتھ ہی انھیں راجہ راجایاں کے خطاب سے  بھی سرفراز کیا گیا، 1903ء میں صدرالمہام کے عہدہ پر فائز کئے گئے، مہاراجہ انتظامی امور کے ماہر ، وفادار، سلجھے ہوئے اور کافی سوجھ بوجھ کے مالک تھے، برطانوی حکومت  ان کی شخصیت اور ان کی انتطامی صلاحیتوں کی قدردان تھی ، برطانوی حکومت نے انھیں ان کی خدمات کے اعتراف میں 1903ء میں کے سی آئی کے خطاب سے نوازا اور 1906ء میں جارج پنجم کی سالگرہ پر جے سی آئی ای کے خطاب سے بھی نوازا ،1912ء میں انہوں نے صدرالمہام کے عہدہ سے استعفی دے دیا. فراغت کے ایام میں انہوں نے اپنی تمام تر توجہ علمی وادبی مشاغل اور تصنیف و تالیف کے کاموں پر مرکوز رکھی ، وہ شعر و سخن کی محفلوں میں جلوہ افروز ہوتے اور خود بھی محفل شعروسخن منعقد کرتے ، خاندانی اعتبار سے دولت مند تھے اس لیے فارغ البالی کے ایام میں ہندوستان کے مختلف شہروں کے اسفار بھی کئے،

ان کی خاندانی وفاداری اور اعلیٰ خدمات کے پیش نظر نواب میر عثمان علی خان آصف جاہ سابع  نے 1927ء میں ان کو صدرالاعظم  (وزیراعظم )کے عہدہ پر مامور کیا،مہاراجہ نے اپنے انتظامی امور کو بروئے کار لاتے ہوئے اسٹیٹ کے فرائض محنت کوشی اور خوش اسلوبی سے انجام دئے ، گزشتہ چند سالوں سے جو خامیاں اور بدانتظامیاں ریاست میں در آئی تھیں انھیں اپنی انتظامی صلاحیتوں سے دور کیا  اور ان میں اصلاحات بھی کیں، ریاست کی سماجی،معاشی اور تعلیمی ترقی کیلئے ہر ممکنہ تدابیر کو اختیار کیا،  ان کے عہدہ صدارت عظمی میں ریاست حیدرآباد ایک پر امن اور خوش حال ریاست بن کر ابھری ،مہاراجہ اس عہدہ پر 1937ء تک باقی رہے.

مہاراجہ انتہائی مصروف زندگی گزارتے تھے امور مملکت کی مصروفیات کے باوجود علم وادب کے مطالعہ کیلئے وقت نکال لیا کرتے تھے،اس کے علاوہ موسیقی،پینٹگ ،خطاطی، تیر اندازی،عطرسازی،ٹینس،بلیرڈ اور طباخی کا بھی شوق تھا،مہاراجہ اردو شاعروں اور ادیبوں کی صرف حوصلہ افزائی اور خاطر مدارات ہی نہیں کرتے تھے بلکہ دادو دہش سے بھی نوازتے تھے،کتنے شاعروں اور ادیبوں کو اپنی ریاست میں حسب لیاقت مختلف شعبوں میں ملازمت دلوائی اور کتنوں کو مستقل امداد کے علاوہ وقتاً فوقتاً گراں قدر انعام واکرام سے بھی نوازا ، ان کی اردونوازی کے باعث اردو کے بڑے بڑے شعراء اکثر حیدرآباد میں مستقل سکونت پذیر رہتے یا پھر ان کو یہاں سے وظیفہ ملتا رہتا ، ان کی علمی وادبی قدردانی اور سخاوت کا یہ عالم تھا کہ بہت سے شاعروں اور ادیبوں سے خود رابطہ کر کے ان کے حالات کا پتہ لگاتے اور ان کی امداد کیا کرتے یا ان کی کتابوں کی طباعت کا انتظام کرنے میں مالی اعانت کرتے اس کے علاوہ ملک کے نامور ادیبوں کے رسالوں کی بھی مالی امداد کرتے ۔

اختر مینائی،حیرت بدایونی،فانی بدایونی،رتن ناتھ سرشار،عبدالحلیم شرر،آغا قزلباش شاعر اور مرزافرحت اللہ بیگ کو انہوں نے مستقل وظیفہ دیا یا ان کی بقدر ضرورت مالی امداد کی، اس کے علاوہ اردو کے دوسرے نامور ادیبوں اور شاعروں سے بھی ان کے مراسم تھے ، ان سے بذریعہ خط وکتابت تبادلہ خیال کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی بھی فرماتے ان مشاہیر میں حالی،شبلی، مولوی عبد الحق،اکبرآلہ آبادی،نظم طباطبائی،ریاض خیرآبادی،علامہ اقبال،سید سلیمان ندوی،عمادالملک سید حسین بلگرامی،ظفر علی خان،تاجور نجیب آبادی،عبدالماجد دریاآبادی،ماہرالقادری،نیاز فتحپوری،جوش ملیح آبادی،سر شیخ عبدالقادر،سید علی بلگرامی،نرسنگھ راج عالی، اور آزاد انصاری وغیرہ شامل ہیں، ان کی زیر سرپرستی ریاست حیدرآباد سے نکلنے والے قابل ذکر رسائل وجرائد میں ,,دبدبہ آصفی,, شوکت عثمانی ,,محبوب الکلام ,,گلدستہ دارالسلطنت,, گلدستہ جشن آصفیہ ,,حیات سخن ,, وغیرہ شامل ہیں ،ان کی سیرت کا ایک نمایاں وصف ان کی مذہبی رواداری تھی، وہ ہر مذہب وملت کا بڑا احترام کرتے تھے، ان کے حرم سرا میں تین ہندو رانیاں اور چار مسلم بیگمات تھیں،مسلم بیگمات کے بچے مسلم اور ہندو رانیوں کے بچے ہندو مذہب پر عمل کرتے تھے اور وہ اس بات کی تاکید بھی کرتے تھے کہ بچے اپنی ماں کے مذہب پر عمل پیرا رہیں ،یہاں تک کہ ان کے ناموں میں بھی اسی کا لحاظ رکھا جاتا تھا،انہوں نے نسوانی تعلیم اور اردو کے فروغ کے کیلئے جو کارہائے نمایاں انجام دئے وہ قابل تعریف ہیں ، انھیں ان کی گراں قدر خدمات کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

مہاراجہ کشن پرشاد بیک وقت شاعراور شاعر نواز،ادیب اور ادب نواز اور ریاست حیدر آباد کےوزیراعظم تھے ، ان کو اردو و فارسی پر دستگاہ حاصل تھی، اس کے علاوہ علم نجوم ورمل کے بھی ماہر تھے انہوں نے سبھی اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ان میں نظم،غزل،قصیدہ،مثنوی ،مسدس،مرثیہ ،  رباعی ،قطعہ،نعت،منقبت،حمد وغیرہ شامل ہیں،انہوں ہندی میں بھی شاعری کے جوہر دکھائے، ہندی میں انہوں ٹھمریاں،کافیاں،بھجن،خیالی ، پارہ ما سے وغیرہ لکھے،ان کا ہندی کا کلام برج بھاشا میں'نغمہ شاد'و'ترانہ شاد' کے نام سے مشہور ہے، ان کی ابتدائی شاعری میں وہ پختگی نہیں ملتی جو داغ کی شاگردی اختیار کرنے کے بعد پیدا ہوئی ، داغ سے رشتہ جوڑنے کے بعد آہستہ آہستہ ان کی زبان میں وہ رچاؤ پیدا ہوگیا جو استاد شاعروں کی صحبت اختیار کرنے کے بعد ہی پیدا ہوسکتا ہے،ان کی نظموں سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں نئے طرز کی شاعری پر بھی قدرت حاصل تھی،ان کی شاعری میں صوفیانہ رنگ تیز اور گہرا ہے اور اس کا عکس ان کی شاعری کے سبھی اصناف پر نمایاں ہے کیونکہ ان کو بزرگان دین اور پیران طریقت سے والہانہ عقیدت تھی،ان کی غزلیں سادہ اور پرکار ہیں ،انہوں نے اپنی غزلوں میں شستہ اور رفتہ زبان کو استعمال کیا، ان کی طرزفکر اور طرزبیان شعری انقلاب کی عکاس ہے،ان کی اردو وفارسی کی غزلوں میں عشقیہ مزاج اور واردات قلبی جیسے روایتی مضامین بھی پائے جاتے ہیں لیکن ان میں خارجی اور داخلی کیفیت نہیں ہے،انہوں نے داغ کی زمینوں میں بھی غزلیں کہیں،ان کے نعتیہ کلام میں ایک خوش عقیدہ مسلمان کی طرح عشق رسول سے والہانہ عقیدت کا اظہار ہے ،مذہباً ہندو ہوتے ہوئے بھی ان کے جذبات میں خلوص اور وارفتگی ہے، مہاراجہ کے مرثیوں اور مثنویوں میں بھی طرز فکر اور طرزبیان کی سادگی نمایاں ہے انہوں نے ان اصناف میں بھی اپنے مخصوص خیالات اور معتقدات کو بڑی بے تکلفی اور بے ساختگی سے پیش کیا ہے، اس میں حسن کی سادگی،ربط وتسلسل اورجوش بیانی پائی جاتی ہے،انہوں نے جزئیات نگاری اور واقعات کی تصویر کشی میں اپنی قوت مشاہدہ اور قدرت بیان کا کمال دکھایا ہے،مرثیوں میں مہاراجہ کے غیر مذہبی مراثی بھی قابل ذکر ہیں،یہ مرثیے فکروفن کے اعتبار سے کامیاب مراثی کہلائے جانے کے مستحق ہیں،ماتم حسین میں مہاراجہ نے مرثیہ کے تمام اجزاء کو پیش نظر رکھا ہے وہ یہاں بھی فرط جذبات میں شرابور نظر آتے ہیں،انہوں نے قصیدوں، رباعیات اور قطعات میں دکنی روایت کو برتاہے ان کی رباعیات اور قطعات مختلف موضوعات پر مشتمل ہیں جو  توحید،تصوف،اخلاق ، حکمت اور کیفیات سے متعلق ہیں،زبان کی سادگی،بیان کی بے ساختگی،جذبات و احساسات کی  وابستگی،اسلوب میں سادگی و شگفتگی ان کی شاعری کی وہ خصوصیات ہیں جو سبھی اصناف سخن میں نمایاں نظر آتی ہیں.

مہاراجہ کو نظم ونثر دونوں پر یکساں  قدرت حاصل تھی ان کی نثری دستگاہ مضمون نگاری،مقالہ نگاری،رسالے،سفر نامے،خطوط اور ناولوں میں نظر آتی ہیں، ان کے یہاں موضوعات کا تنوع ہے، غوروفکر اور مطالعہ کی وسعت ان تحریروں سے عیاں ہے ، انہوں نے تصوف پر کئی رسالے اور مضامین لکھے،ان کے بیشتر مضامین ہندومسلم اتحاد،مذہبی رواداری،فرقہ پرستی کی قباحت، وطن کی ترقی،بچوں کی تعلیم وتربیت،رہبرولیڈر کی ضرورت،ہندو چھتریہ راجاؤں کی شجاعت اور بہادری کی تاریخ  وغیرہ پر ہیں،ان کی طرزنگارش کبھی بہت سادہ اور سلیس ہوتی ہے تو کبھی مسجع و مقفیٰ اور پر تکلف ہوجاتی ہے حالانکہ عام طور پر وہ سادہ اور بے تکلف نثر ہی لکھنے کی کوشش کرتے تھے، ان کے خطوط بھی سادہ اور عام فہم ہوتے تھے وہ تصنع سے پاک ہوتے تھے وہ ان میں ادبی لیاقت کا اظہار نہیں کیا کرتے تھے ،انہوں نے 14سفر نامے تحریر کئے، ناول نگاری میں بھی طبع آزمائی کی ، ناولوں میں منظر نگاری اور تاریخی مواد کیلئے شرر کا اسلوب اختیارکیا اور انھیں کے زبان وبیان کی اتباع بھی کی  اس کے علاوہ دکنی لب ولہجہ بھی ان پر حاوی رہا.

یمین السلطنت مہاراجہ کشن پرشاد شاد 9 مئی 1940ء کو مختصر علالت کے بعد اس دنیا سے کوچ کر گئے ، ان کے خاندانی رسم ورواج کے مطابق  ان کی ارتھی اٹھائی گئی ان کی چتا کو آگ ان کے بیٹے خواجہ پرشاد نے دی،ان کی ارتھی کے جلوس میں فرحت اللہ بیگ کے مطابق ہر قوم وملت کے لوگ شامل تھے ، ہر شخص اپنے عقیدے کے مطابق ان کے لیے دعائے مغفرت کررہا تھا یہاں تک کہ ایک پادری صاحب تو انجیل پڑھتے ہوئے مرگھٹ تک گئے.

مہاراجہ کی کتابیں اس طرح ہیں

1.  مجموعہ مناجات

2.  بزم خیال

3. جذبات شاد

4.جلوہ کرشن

5.  رباعیات شاد

6.  روزنامچہ گلبرگہ

7.  سیروسفر

8. قدوم سلطانی

9.  قومی لیڈر

10. گلبن تاریخ

11.    ہندوبھائیوں سے خطاب

12.    رقعات شاد

13.  چنچل نار

14.خمار شاد

15.روضہ شریف