Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


عنبریں حسیب عنبر

زمیں پہ انساں خدا بنا تھا وبا سے پہلے

زمیں پہ انساں خدا بنا تھا وبا سے پہلے

وہ خود کو سب کچھ سمجھ رہا تھا وبا سے پہلے

 

پلک جھپکتے ہی سارا منظر بدل گیا ہے

یہاں تو میلہ لگا ہوا تھا وبا سے پہلے

 

تم آج ہاتھوں سے دوریاں ناپتے ہو سوچو

دلوں میں کس درجہ فاصلہ تھا وبا سے پہلے

 

عجیب سی دوڑ میں سب ایسے لگے ہوئے تھے

مکاں مکینوں کو ڈھونڈھتا تھا وبا سے پہلے

 

ہم آج خلوت میں اس زمانے کو رو رہے ہیں

وہ جس سے سب کو بہت گلہ تھا وبا سے پہلے

 

نہ جانے کیوں آ گیا دعا میں مری وہ بچہ

سڑک پہ جو پھول بیچتا تھا وبا سے پہلے

 

دعا کو اٹھے ہیں ہاتھ عنبرؔ تو دھیان آیا

یہ آسماں سرخ ہو چکا تھا وبا سے پہلے