Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا

یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا

گھر بار کے بازار میں پر کیا نہیں ہوتا

 

جبر دل بے مہر کا چرچا نہیں ہوتا

تاریکئ شب میں کوئی چہرہ نہیں ہوتا

 

ہر جذبۂ معصوم کی لگ جاتی ہے بولی

کہنے کو خریدار پرایا نہیں ہوتا

 

عورت کے خدا دو ہیں حقیقی و مجازی

پر اس کے لیے کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا

 

شب بھر کا ترا جاگنا اچھا نہیں زہراؔ

پھر دن کا کوئی کام بھی پورا نہیں ہوتا