یہ دنیا تجھ سے پہلے بھی حسیں تھی
یقیناً تھی، مگر اتنی نہیں تھی
میں اپنے آپ کو ڈھونڈوں کہاں پر
ابھی کچھ دیر پہلے تو یہیں تھی
فلک، مہتاب، انجم تھے رعایا
میں تیرے دل میں جب مسند نشیں تھی
بہت شاداب تھیں خوابوں سے آنکھیں
یہ ویرانی ازل سے تو نہیں تھی
ہوا کیا آسماں کی سازشوں سے
مرے قدموں تلے میری زمیں تھی
میں گروی رکھ نہ پائی اپنی آنکھیں
سو مجھ پر بھی یہ دنیا نکتہ چیں تھی