Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ڈاکٹر طارق قمر

یہ آرزو تھی اسے آئنہ بناتے ہم

 

یہ آرزو تھی اسے آئنہ بناتے ہم

 

اور آئینے کی حفاظت میں ٹوٹ جاتے ہم

 

تمام عمر بھٹکتے رہے یہ کہتے ہوئے

کہ گھر بناتے سجاتے اسے بلاتے ہم

 

ہر آدمی وہاں مصروف قہقہوں میں تھا

یہ آنسوؤں کی کہانی کسے سناتے ہم

 

بگاڑے بیٹھے تھے تقدیر اپنے ہاتھوں سے

ہتھیلیوں کی لکیریں کسے دکھاتے ہم

 

خدا نے اتنا کرم اور کر دیا ہوتا

کہ جس نے زخم دیے اس کو بھول جاتے ہم

 

کچھ اس سبب سے بھی یہ زخم لا دوا ٹھہرے

ہر ایک شخص کا احساں نہیں اٹھاتے ہم

 

تو اپنے غم سے ہی خالی کہاں ہے اے طارقؔ

جو تیرے پاس کبھی آ کے بیٹھ جاتے ہم