Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


اعجاز حیدر

وہیں پہ غم ہے جہاں پر خوشی پڑی ہوئی ہے

وہیں پہ غم ہے جہاں پر خوشی پڑی ہوئی ہے

اور ان کے بیچ میں بھی دشمنی پڑی ہوئی ہے

 

نمٹ لوں اس سے تو سوچوں گا اپنے بارے میں

ابھی تو میرے گلے زندگی پڑی ہوئی ہے

 

جب حشر ہو گا تو اس وقت جانے کیا ہو گا

کہ اپنی اپنی تو سب کو ابھی پڑی ہوئی ہے

 

نگاہ مجھ پہ کرے گا ضرور دشت جنوں

ذرا سی خاک مرے سر میں بھی پڑی ہوئی ہے

 

جو بات ہو نہ اسکی اس کی بات کی جائے

وہ بات جو کہ ابھی ان کہی پڑی ہوئی ہے

 

میں اس لیے بھی نہیں کھولتا وہ الماری

پرانے کپڑوں میں دیوانگی پڑی ہوئی ہے