وہیں پہ غم ہے جہاں پر خوشی پڑی ہوئی ہے
اور ان کے بیچ میں بھی دشمنی پڑی ہوئی ہے
نمٹ لوں اس سے تو سوچوں گا اپنے بارے میں
ابھی تو میرے گلے زندگی پڑی ہوئی ہے
جب حشر ہو گا تو اس وقت جانے کیا ہو گا
کہ اپنی اپنی تو سب کو ابھی پڑی ہوئی ہے
نگاہ مجھ پہ کرے گا ضرور دشت جنوں
ذرا سی خاک مرے سر میں بھی پڑی ہوئی ہے
جو بات ہو نہ اسکی اس کی بات کی جائے
وہ بات جو کہ ابھی ان کہی پڑی ہوئی ہے
میں اس لیے بھی نہیں کھولتا وہ الماری
پرانے کپڑوں میں دیوانگی پڑی ہوئی ہے