Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

وحشت میں بھی منت کش صحرا نہیں ہوتے

وحشت میں بھی منت کش صحرا نہیں ہوتے

کچھ لوگ بکھر کر بھی تماشا نہیں ہوتے

 

جاں دیتے ہیں جاں دینے کاسودا نہیں کرتے

شرمندۂ اعجاز مسیحا نہیں ہوتے

 

ہم خاک تھے پر جب اسے دیکھا تو بہت روئے

سنتے تھے کہ صحراؤں میں دریا نہیں ہوتے

 

اک تار گریباں کا رہے دھیان کے سب لوگ

محفل میں تو ہوتے ہیں شناسا نہیں ہوتے