Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

وہ اگر بات ماننے لگ جائیں

وہ اگر بات ماننے لگ جائیں

اُن کے بھی سارے غم مجھے لگ جائیں

 

آپ آئیں تو یہ بھی ممکن ہے

رنگ خوشبو بکھیرنے لگ جائیں

 

کیا بنے گا پھر اس تعلق کا

آپ گر جھوٹ بولنے لگ جائیں

 

اپنے بارے میں سوچتے ہوئے ہم

تیرے بارے میں سوچنے لگ جائیں

 

ہم جسے دیکھ لیں فقط اک بار

سب کے سب اُس کو دیکھنے لگ جائیں

 

درمیاں کی ہوا مخالف ہے

جی تو کرتا ہے اب گلے لگ جائیں

 

یوں برستی ہیں اب مری آنکھیں

جیسے ساون کے عارضے لگ جائیں

 

ان کے ہونٹوں کی بات اک جانب

ان کی آنکھیں بھی بولنے لگ جائیں

 

یوں بھی ہو کاش دیکھ کر مجھ کو

لوگ بس اُس کو پوچھنے لگ جائیں

 

انتظاری ہے گر ربابؔ تو ہے

اب زمانے کئی بھلے لگ جائیں