ویران گھرمیں روح چمن ڈھو نڈھتا ہوں میں
ظلمت میں روشنی کی کرن ڈھونڈھتا ہوں میں
نفرت کی ایک لہر ہے چاروں طرف مرے
اور پھر بھی دوستی کا چلن ڈھونڈھتا ہوں میں
دیر وحرم بلاتے ہیں اپنی طرف مجھے
انسانیت کا ایک وطن ڈھونڈھتا ہوں میں
کانٹے ہیں سر بلند، گلوں کو حجاب ہے
کیا سادہ دل ہوں بوئے سمن ڈھونڈھتا ہوں میں
جب اس کا آئینہ تھا غبارجنوں سے پاک
وہ آب و تاب گنگ و جمن ڈھونڈھتا ہوں میں