اس کے لہجے میں ڈھل رہی ہوں میں
یعنی خود سے نکل رہی ہوں میں
تو ہے مصرع جناب غالب کا
میر جی کی غزل رہی ہوں میں
اب وہ مشکل سمجھ رہا ہے مجھے
جس کی مشکل کا حل رہی ہوں میں
سرد موسم کی پہلی بارش ہے
قطرہ قطرہ پگھل رہی ہوں میں
ریگِ جاں میں شجر رہا ہے وہ
دشتِ دل میں غزل رہی ہوں میں
تو ہے اجلی کرن سویرے کی
شام ہوں اور ڈھل رہی ہوں میں
مجھ کو مڑ مڑ کے دیکھتا کیا ہے
تیرے پیچھے ہی چل رہی ہوں میں
آج کتنا بدل گیا ہے وہ
جس کا نعم البدل رہی ہوں میں
جانے کس سائبان میں ہوں رباب
چھاؤں ہے اور جل رہی ہوں میں