Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

اس کے لہجے میں ڈھل رہی ہوں میں

اس کے لہجے میں ڈھل رہی ہوں میں

یعنی خود سے نکل رہی ہوں میں

 

تو ہے مصرع جناب غالب کا

میر جی کی غزل رہی ہوں میں

 

اب وہ مشکل سمجھ رہا ہے مجھے

جس کی مشکل کا حل رہی ہوں میں

 

سرد موسم کی پہلی بارش ہے

قطرہ قطرہ پگھل رہی ہوں میں

 

ریگِ جاں میں شجر رہا ہے وہ

دشتِ دل میں غزل رہی ہوں میں

 

تو ہے اجلی کرن سویرے کی

شام ہوں اور ڈھل رہی ہوں میں

 

مجھ کو مڑ مڑ کے دیکھتا کیا ہے

تیرے پیچھے ہی چل رہی ہوں میں

 

آج کتنا بدل گیا ہے وہ

جس کا نعم البدل رہی ہوں میں

 

جانے کس سائبان میں ہوں رباب

چھاؤں ہے اور جل رہی ہوں میں