Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا

اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا

اتنی صعوبتوں کا ہمیں یہ صلہ ملا

 

اک وسعت خیال کہ لفظوں میں گھر گئی

لہجہ کبھی جو ہم کو کرم آشنا ملا

 

تاروں کو گردشیں ملیں ذروں کو تابشیں

اے رہ نورد راہ جنوں تجھ کو کیا ملا

 

ہم سے بڑھی مسافت دشت وفا کہ ہم

خود ہی بھٹک گئے جو کبھی راستہ ملا