تو جو سفر میں ساتھ نبھانے سے رہ گیا
پیچھے بہت میں اپنے زمانے سے رہ گیا
باہر سے اپنا حال دکھایا اسے مگر
اندر کا ایک زخم دکھانے سے رہ گیا
آنکھوں میں منجمد ہےاک ایسا بھی اشک جو
رونے کا وقت تھا تو بہانے سے رہ گیا
راس آگئی ہے صحرا نوردی سو ایک عمر
گھر کی طرف میں لوٹ کے جانے سے رہ گیا
جھیلی نہیں جو میں نے اذیت ہے کون سی
ہے رنج کون سا جو اٹھانے سے رہ گیا
موت آگئی قریب تو آیا مجھے خیال
میں زندگی کا قرض چکانے سے رہ گیا
قیصر وہ ڈر رہا تھا محبت کے ذکر سے
سو میں بھی بات دل کی بتانے سے رہ گیا۔