Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


قیصر مسعود

تو جو سفر میں ساتھ نبھانے سے رہ گیا

تو جو سفر میں ساتھ نبھانے سے رہ گیا

پیچھے بہت میں اپنے زمانے سے رہ گیا

 

باہر سے اپنا حال دکھایا اسے مگر

اندر کا ایک زخم دکھانے سے رہ گیا

 

آنکھوں میں منجمد ہےاک ایسا بھی اشک جو

رونے کا وقت تھا تو بہانے سے رہ گیا

 

راس آگئی ہے صحرا نوردی سو ایک عمر

گھر کی طرف میں لوٹ کے جانے سے رہ گیا

 

جھیلی نہیں جو میں نے اذیت ہے کون سی

ہے رنج کون سا جو اٹھانے سے رہ گیا

 

موت آگئی قریب تو آیا مجھے خیال

میں زندگی کا قرض چکانے سے رہ گیا

 

قیصر وہ ڈر رہا تھا محبت کے ذکر سے

سو میں بھی بات دل کی بتانے سے رہ گیا۔