تھا جو یارا ٹوٹ گیا
میں تو سارا ٹوٹ گیا
اتنے زور سے بات لگی
دل تھا یارا ! ٹوٹ گیا
لوگ ہیں اپنے اپنے ساتھ
ربط ہمارا ٹوٹ گیا
چھم چھم برسا غم کا بادل
ضبط کنارا ٹوٹ گیا
میری ہی قسمت کا تھا وہ
ایک جو تارہ ٹوٹ گیا