Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


اعجاز حیدر

تھا جو یارا ٹوٹ گیا

تھا جو یارا ٹوٹ گیا

میں تو سارا ٹوٹ گیا

 

اتنے زور سے بات لگی

دل تھا یارا ! ٹوٹ گیا

 

لوگ ہیں اپنے اپنے ساتھ

ربط ہمارا ٹوٹ گیا

 

چھم چھم برسا غم کا بادل

ضبط کنارا ٹوٹ گیا

 

میری ہی قسمت کا تھا وہ

ایک جو تارہ ٹوٹ گیا