طبیعت آج کچھ بے کل رہی ہے
کہانی پھر پرانی چل رہی ہے
نظر سے آج گزری ایک تصویر
خیالوں میں بڑی ہلچل رہی ہے
خراماں چاند بھی ہے چودھویں کا
اور اس کے ساتھ بدلی چل رہی ہے
نہیں اب کھولتا ہے خون میرا
بڑھاپے میں جوانی ڈھل رہی ہے
وہ بنتا جا رہا ہے یار میرا
مری ہر بات اس کو کھل رہی ہے