Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


اعجاز حیدر

طبیعت آج کچھ بے کل رہی ہے

طبیعت آج کچھ بے کل رہی ہے

کہانی پھر پرانی چل رہی ہے

 

نظر سے آج گزری ایک تصویر

خیالوں میں بڑی ہلچل رہی ہے

 

خراماں چاند بھی ہے چودھویں کا

اور اس کے ساتھ بدلی چل رہی ہے

 

نہیں اب کھولتا ہے خون میرا

بڑھاپے میں جوانی ڈھل رہی ہے

 

وہ بنتا جا رہا ہے یار میرا

مری ہر بات اس کو کھل رہی ہے