Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


اعجاز حیدر

تاج میں ہو بھی سکتا ہے

تاج میں ہو بھی سکتا ہے

ہیرا کھو بھی سکتا ہے

 

 

جاگے بھاگ تو مان نہ کر

بخت ہے سو بھی سکتا ہے

 

 

آنکھ میں رہنے والے سن

اشک ڈبو بھی سکتا ہے

 

 

وہ قہار بھی ہے لیکن

بندہ رو بھی سکتا ہے

 

 

جس میں کاٹنے کا دم ہو

وہ ہی بو بھی سکتا ہے

 

 

کون کسی کا ہے، اعجاز

کیا کوئی ہو بھی سکتا ہے

 

 

حیدر بات کرے، تو گاہے

موتی پرو بھی سکتا ہے