تاج میں ہو بھی سکتا ہے
ہیرا کھو بھی سکتا ہے
جاگے بھاگ تو مان نہ کر
بخت ہے سو بھی سکتا ہے
آنکھ میں رہنے والے سن
اشک ڈبو بھی سکتا ہے
وہ قہار بھی ہے لیکن
بندہ رو بھی سکتا ہے
جس میں کاٹنے کا دم ہو
وہ ہی بو بھی سکتا ہے
کون کسی کا ہے، اعجاز
کیا کوئی ہو بھی سکتا ہے
حیدر بات کرے، تو گاہے
موتی پرو بھی سکتا ہے