Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


شمیم حنفی

شعلہ شعلہ تھی ہوا شیشۂ شب سے پوچھو

شعلہ شعلہ تھی ہوا شیشۂ شب سے پوچھو

یا مرا حال مری تاب طلب سے پوچھو

 

جانے کس موڑ پہ ان آنکھوں نے موتی کھوئے

بستیاں دید کی ویران ہیں کب سے پوچھو

 

راستے لوگوں کو کس سمت لیے جاتے ہیں

کیا خبر کون بتا پائے گا سب سے پوچھو

 

دن نکلتے ہی ستاروں کے سفینے ڈوبے

دل کے بجھنے کا سبب موج طرب سے پوچھو

 

وہی دن رات وہی ایک سے لمحوں کا حساب

سخن آغاز کروں عمر کا جب سے پوچھو

 

خامشی بھی تو سناتی ہے فسانے اکثر

کس تماشے میں ہوں یہ بندش لب سے پوچھو