Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

شرارتوں پہ یقیں کوئی کر بھی سکتا ہے

شرارتوں پہ یقیں کوئی کر بھی سکتا ہے

سمجھ کے عشق کوئی تجھ پہ مر بھی سکتا ہے

 

یہ بات بات پہ قسمت کو دوش کیا دینا

نصیب زلف نہیں ہے سنور بھی سکتا ہے

 

یہ دل کی اجڑی ہوئی اک سراے ہے سو یہاں

کوئی حسین مسافر ٹھہر بھی سکتا ہے

 

یہ بادلوں کا بسیرا تو عام ہے لیکن

ہماری آنکھ سے دریا اتر بھی سکتا ہے

 

جو شہر بھر میں کرے تیرے نام کی تشہیر

وہ تیرے نام پہ الزام دھر بھی سکتا ہے

 

چلے تو آئے ہو کاغذ کی ناؤ لے کر تم

عصا بدست ہو دریا ٹھہر بھی سکتا ہے

 

وہ کہہ رہا ہے نبھائے گا عمر بھر رشتہ

مگر وہ قول سے اپنے مکر بھی سکتا ہے

 

مجھے گماں ہے کہ دھوکا ہے چاندنی شب بھی

کہ چاند دیکھ کے تجھ کو نکھر بھی سکتا ہے

 

ربابؔ چارہ گروں سے کرو کنارہ اب

جو زخم دل پہ لگا ہے وہ بھر بھی سکتا ہے