Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

رونقیں اب بھی کواڑوں میں چھپی لگتی ہیں

رونقیں اب بھی کواڑوں میں چھپی لگتی ہیں

محفلیں اب بھی اسی طرح سجی لگتی ہیں

 

روشنی اب بھی درازوں سے امڈ آتی ہے

کھڑکیاں اب بھی صداؤں سے کھلی لگتی ہیں

 

ساعتیں جو تری قربت میں گراں گزری تھیں

دور سے دیکھوں تو اب وہ بھی بھلی لگتی ہیں

 

اب بھی کچھ لوگ سناتے ہیں سنائے ہوئے شعر

باتیں اب بھی تری ذہنوں میں بسی لگتی ہیں