Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا

رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا

ایک چہرہ کہ آنکھوں میں ٹھہرا سا تھا

 

بے چراغی سے تیری مرے شہر دل

وادیٔ شعر میں کچھ اجالا سا تھا

 

میرے چہرے کا سورج اسے یاد ہے

بھولتا ہے پلک پر ستارہ سا تھا

 

بات کیجے تو کھلتے تھے جوہر بہت

دیکھنے میں تو وہ شخص سادہ سا تھا

 

صلح جس سے رہی میری تا زندگی

اس کا سارے زمانے سے جھگڑا سا تھا