Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم

قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم

ڈوریاں مضبوط ہوں گی چھٹتے جائیں گے ہم

 

تیرا رخ سائے کی جانب میری آنکھیں سوئے مہر

دیکھنا ہے کس جگہ کس وقت مل پائیں گے ہم

 

گھر کے سارے پھول ہنگاموں کی رونق ہو گئے

خالی گلدانوں سے باتیں کرکے سو جائیں گے ہم

 

ادھ کھلی تکیے پہ ہوگی علم و حکمت کی کتاب

وسوسوں وہموں کے طوفانوں میں گھر جائیں گے ہم

 

اس نے آہستہ سے زہراؔ کہہ دیا دل کھل اٹھا

آج سے اس نام کی خوشبو میں بس جائیں گے ہم