قتل سب انسان ہو جائیں گے کیا
شہر بھی ویران ہو جائیں گے کیا
گھر میں چھپ کر بیٹھ جائیں گے سبھی
راستے سنسان ہو جائیں گے کیا
اے صدی اکیس ویں تو ہی بتا
ہم ترے قربان ہو جائیں گے کیا
زندگی کی مشکلوں کے خوف سے
مرحلے آسان ہو جائیں گے کیا
ہم اسی اک شہر میں رہتے ہوئے
اس قدر انجان ہو جائیں گے کیا