Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


عنبریں حسیب عنبر

قتل سب انسان ہو جائیں گے کیا

قتل سب انسان ہو جائیں گے کیا

شہر بھی ویران ہو جائیں گے کیا

 

گھر میں چھپ کر بیٹھ جائیں گے سبھی

راستے سنسان ہو جائیں گے کیا

 

اے صدی اکیس ویں تو ہی بتا

ہم ترے قربان ہو جائیں گے کیا

 

زندگی کی مشکلوں کے خوف سے

مرحلے آسان ہو جائیں گے کیا

 

ہم اسی اک شہر میں رہتے ہوئے

اس قدر انجان ہو جائیں گے کیا