Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


اعجاز حیدر

نئے برس بھی جو میلا لگایا جانا ہے

نئے برس بھی جو میلا لگایا جانا ہے  

گئے دنوں کو ہی اس میں بلایا جانا ہے

 

پرانے گھر کو نیا گر بنایا جانا ہے 

ضرورتا" اسے پہلے گرایا جانا ہے

 

مجھے پتہ ہے کہ پہلے ہنسایا جانا ہے

اور اس کے بعد بہت ہی رلایا جانا ہے

 

جہاں پہ جانا مرے بس کی بات ہے ہی نہیں

میں جانتا ہوں وہیں پر بلایا جانا ہے

 

بڑے ہی شوق سے بیٹھا ہوا ہوں محفل میں

ضرور مجھ کو یہاں سے اٹھایا جانا ہے

 

بھٹک رہے ہیں جو کچھ لوگ آتے جاتے ہوئے

انہیں بھی راستہ، آخر دکھایا جانا ہے

 

ادھیڑ عمر کے نسیاں کا مسئلہ ہے یہی

وہ یاد آتا ہے جس کو بھلایا جانا ہے