نئے برس بھی جو میلا لگایا جانا ہے
گئے دنوں کو ہی اس میں بلایا جانا ہے
پرانے گھر کو نیا گر بنایا جانا ہے
ضرورتا" اسے پہلے گرایا جانا ہے
مجھے پتہ ہے کہ پہلے ہنسایا جانا ہے
اور اس کے بعد بہت ہی رلایا جانا ہے
جہاں پہ جانا مرے بس کی بات ہے ہی نہیں
میں جانتا ہوں وہیں پر بلایا جانا ہے
بڑے ہی شوق سے بیٹھا ہوا ہوں محفل میں
ضرور مجھ کو یہاں سے اٹھایا جانا ہے
بھٹک رہے ہیں جو کچھ لوگ آتے جاتے ہوئے
انہیں بھی راستہ، آخر دکھایا جانا ہے
ادھیڑ عمر کے نسیاں کا مسئلہ ہے یہی
وہ یاد آتا ہے جس کو بھلایا جانا ہے